مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران امریکا نے ایران کے زیرِ کنٹرول جزیرہ قیشم پر واقع پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے ٹنل کمپلیکس کو نشانہ بنایا۔
حملے کے نتیجے میں سطح پر واضح نقصان دیکھا گیا، جس میں گڑھے (کریٹرز) بننا اور قریبی تنصیبات کو جزوی نقصان پہنچنا شامل ہے۔ذرائع کے مطابق حملے کے باوجود زیرِ زمین موجود مضبوط اور محفوظ ٹنلز کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا۔ ابتدائی جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حملہ ان گہرے اور مضبوط بنکر نما راستوں کو تباہ کرنے یا ان میں داخل ہونے میں ناکام رہا، جس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اہم عسکری اثاثے محفوظ رہے۔ سیٹلائٹ تصاویر میں ٹنلز کے داخلی راستوں کے قریب گڑھوں کے نشانات دیکھے گئے ہیں، تاہم کسی بڑے ساختی انہدام یا زمین کے اندر گہرے نقصان کے شواہد سامنے نہیں آئے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ایران کی زیرِ زمین عسکری تنصیبات کو مضبوط بنانے کی حکمت عملی مؤثر ثابت ہو رہی ہے، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں مزید پیش رفت پر عالمی نظریں مرکوز ہیں۔
