امریکہ نے 2011 کے بعد عراق سے اپنا سب سے بڑا انخلا آپریشن شروع کر دیا ہے۔ اس کارروائی کے تحت تقریباً 200 امریکی فوجیوں کو دارالحکومت بغداد سے جرمنی کے جنوبی شہر ڈرمسٹڈ میں قائم فوجی اڈے منتقل کیا جا رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق یہ انخلا سکیورٹی صورتحال اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر کیا جا رہا ہے،بغداداور دیگر علاقوں میں امریکیوں پر پے در پے حملوں کے بعد ممکنہ طور پر امریکی انخلا شروع ہوا ہے،
دوسری جانب عراق کے دارالحکومت بغداد میں انٹیلی جنس ہیڈکوارٹر کے قریب ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک افسر ہلاک ہو گیا ہے۔ عراقی نیشنل انٹیلی جنس سروس کے مطابق حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے کیا گیا۔حکام کا کہنا ہے کہ ڈرون نامعلوم “ گروہوں” کی جانب سے داغا گیا، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا ان گروہوں کا تعلق ایران سے ہے یا نہیں۔بیان کے مطابق حملہ حساس سیکیورٹی تنصیبات کے قریب ہوا، جس کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
دوسری جانب نیٹو نے ایک روز قبل اعلان کیا تھا کہ اس نے عراق میں اپنے مشاورتی مشن سے تمام فوجیوں کو واپس بلا لیا ہے۔ اس کے علاوہ پولینڈ، اسپین اور کروشیا سمیت کئی ممالک بھی حالیہ دنوں میں اسی نوعیت کے انخلا کا اعلان کر چکے ہیں۔
