ٹرمپ انتظامیہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے خلیج فارس میں واقع خارگ جزیرے پر قبضے یا ناکہ بندی کے ممکنہ منصوبوں پر غور کر رہی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اقدام کا مقصد ایران کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے پر مجبور کرنا ہے، جہاں حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی توانائی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔
خارگ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا مرکزی مرکز سمجھا جاتا ہے اور یہاں سے ملک کی تقریباً 90 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اس لیے اس مقام کی اہمیت انتہائی زیادہ ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر اس نوعیت کا کوئی قدم اٹھایا جاتا ہے تو اس کے عالمی توانائی منڈی اور خطے کی سیکیورٹی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جبکہ کشیدگی میں مزید اضافہ بھی متوقع ہے۔
خارگ جزیرے پر امریکی نظر، ایران پر دباؤ بڑھانے کا منصوبہ
