امریکا نے شام میں کئی برسوں سے جاری اپنی فوجی موجودگی ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور آئندہ چند ماہ کے دوران امریکی افواج کی بڑی تعداد کو واپس بلانے کی تیاری شروع کردی گئی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک سینیئر اہلکار اور امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق شام میں تعینات امریکی فوجیوں کے مرحلہ وار انخلا کا منصوبہ تیار کرلیا گیا ہے۔ رپورٹ میں تین اعلیٰ امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ شام میں موجود تقریباً ایک ہزار امریکی فوجیوں کو واپس بلایا جائے گا اور انخلا کا عمل آئندہ دو ماہ کے اندر مکمل ہونے کی توقع ہے۔
امریکی افواج 2015 سے انسدادِ دہشت گردی مہم کے تحت شام میں موجود تھیں، جہاں ان کا بنیادی مقصد شدت پسند تنظیم داعش کے اثر و رسوخ کو روکنا اور مقامی فورسز کی معاونت کرنا تھا۔ ایک سینیئر امریکی اہلکار نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو بتایا کہ اس فیصلے کی اہم وجہ شامی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی ذمہ داری خود سنبھالنے کی یقین دہانی ہے۔
رپورٹ کے مطابق شامی حکومت نے اپنی سرحدوں کے اندر سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی آپریشنز کی قیادت کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جس کے بعد امریکا کو وہاں بڑے پیمانے پر فوجی موجودگی برقرار رکھنے کی ضرورت کم محسوس ہو رہی ہے۔
یاد رہے کہ امریکا نے 2015 میں داعش کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر شام میں اپنی فوجیں تعینات کی تھیں۔ بدلتی ہوئی زمینی صورتحال کے بعد واشنگٹن اب اپنی طویل فوجی موجودگی سمیٹنے کی جانب بڑھ رہا ہے، جسے خطے کی سکیورٹی صورتحال میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکا کا شام سے فوجی انخلا کا فیصلہ، برسوں پر محیط موجودگی ختم کرنے کی تیاری
