Baaghi TV

ایران کے گیس فیلڈز پر حملے سے متعلق متضاد دعوے، امریکا نے تردید کر دی

ایران کے توانائی کے اہم مراکز پر مبینہ حملوں کے حوالے سے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں، جہاں ایک جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے امریکا اور اسرائیل پر حملے کا الزام عائد کیا، وہیں امریکی حکام نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کر دی ہے۔

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق ایران کے گیس فیلڈز پر حملہ امریکا نے نہیں کیا، بلکہ یہ کارروائی اسرائیل کی جانب سے کی گئی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں امریکا براہِ راست ملوث نہیں تھا۔اس سے قبل ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کی تیل و گیس کی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جن میں دنیا کا سب سے بڑا گیس فیلڈ ساؤتھ پارس بھی شامل ہے۔ادھر ایک اسرائیلی ذریعے نے امریکی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ اسرائیل نے جنوب مغربی ایران میں واقع اسالوئیہ کی گیس تنصیب پر حملہ کیا۔ ایک اور اسرائیلی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ ساؤتھ پارس فیلڈ پر حملہ امریکا کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت کیا گیا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کی جانب سے ایران کے اہم گیس فیلڈ پر حملے کے بعد ایرانی توانائی تنصیبات پر مزید حملوں کی مخالفت کردی،امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کو واضح پیغام دیا جا چکا ہے، اس لیے توانائی تنصیبات پر مزید حملوں کی ضرورت نہیں،

رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے بدھ کے روز ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ کو نشانہ بنایا، جو دنیا کے سب سے بڑے گیس ذخائر میں شمار ہوتا ہے اور ایران کی توانائی کا اہم ذریعہ ہے،امریکی اخبار کے مطابق ٹرمپ کو اس حملے کا پیشگی علم تھا تاہم رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی صدر کا مؤقف حتمی نہیں اور اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں مزید اشتعال انگیز اقدامات کیے تو وہ دوبارہ ایرانی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی حمایت کر سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ ایران نے ساؤتھ پارس فیلڈ پر اسرائیلی حملے کے بعد خطے کی ان تمام تیل تنصیبات کو اپنا ہدف قرار دے دیا جو امریکی کمپنیوں کی ملکیت ہیں یا ان کے زیرِ انتظام چلائی جارہی ہیں،اسی سلسلے میں ایران نے قطر میں راس لفان انڈسٹریل سٹی پر میزائل سے حملہ کیا، حملے کے بعد آگ لگ گئی، قطر انرجی کے مطابق حملے سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا،

More posts