مذاکرات کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج نے اپنی سرگرمیاں بھی تیزکردیں۔
قطر کے العدید بیس سے امریکیوں کا انخلاء جاری ہے، بحرین میں قائم امریکی بیس سے بھی غیر ضروری عملہ نکال لیا گیا۔رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں امریکا کے 40 ہزار اہلکار تعینات ہیں۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق قطر اور بحرین میں امریکی اڈوں سے بڑی تعداد میں غیرضروری عملے کو نکالا جارہا ہے۔اسٹیووٹکوف کہتے ہیں ایران کوایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے
ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور جمعرات کو ہوگا۔ عمان کے وزیرخارجہ نے تصدیق کردی، بتایا یہ مذاکرات جنیوا میں ہوں گے۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے ایران خطے میں امن اور استحکام کیلئے پُرعزم ہے، حالیہ مذاکرات میں اہم تجاویز پر گفتگو ہوئی، مثبت اشارے بھی ملے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ امریکی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے مکمل تیار ہیں۔ایرانی وزیرخارجہ نے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ سفارتی حل اب بھی ممکن ہے۔
