مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان پر عالمی برادری نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے امن کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔
سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنا چاہیے تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل معمول پر آسکے۔ سعودی حکام نے امید ظاہر کی کہ یہ جنگ بندی خطے میں ایک جامع اور پائیدار امن کی بنیاد ثابت ہوگی۔
دوسری جانب ملائیشین وزیراعظم انورابراہیم نے خطے میں دیرپا امن کے قیام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی پیش کردہ 10 نکاتی تجویز کو عملی شکل دے کر ایک جامع امن معاہدہ تشکیل دیا جائے۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اس پیش رفت کو خطے اور دنیا کے لیے باعثِ راحت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشیدگی میں کمی عالمی امن کے لیے نہایت اہم ہے۔ادھر فرانسیسی صدر نے زور دیا کہ جنگ بندی کی شرائط کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ ایک خوش آئند قدم ہے، تاہم لبنان کی صورتحال اب بھی تشویشناک ہے، لہٰذا اسے بھی کسی جامع امن معاہدے کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پیش کی گئی دو ہفتوں کی جنگ بندی کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے اس اہم پیش رفت کی راہ ہموار کی، جسے سفارتی سطح پر ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
