Baaghi TV


امریکا ایران معاہدے میں 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع کا امکان

‎امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے میں 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اہم نکات شامل ہو سکتے ہیں۔
‎رپورٹ کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، سمندری بارودی سرنگیں صاف کرنے اور کسی قسم کا ٹول ٹیکس عائد نہ کرنے پر آمادگی ظاہر کر سکتا ہے۔
‎ایگزیوس کے مطابق امریکا بھی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے اور ایرانی تیل پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی دینے پر غور کر رہا ہے۔
‎رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے اور یورینیم افزودگی پروگرام پر مزید مذاکرات کے لیے ابتدائی یقین دہانیاں بھی ممکنہ معاہدے کا حصہ ہو سکتی ہیں۔
‎اس کے علاوہ امریکا ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنے اور پابندیوں میں نرمی سے متعلق بات چیت پر بھی آمادہ ہو سکتا ہے۔
‎ایگزیوس کے مطابق 60 روزہ جنگ بندی کے دوران امریکی افواج خطے میں موجود رہیں گی جبکہ مکمل انخلا کسی حتمی معاہدے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ باہمی رضامندی سے جنگ بندی میں مزید توسیع کی جا سکتی ہے۔
‎دوسری جانب نیویارک ٹائمز نے بھی امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران ممکنہ طور پر انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دستبرداری پر غور کر سکتا ہے۔
‎تاہم ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے ان اطلاعات کے برعکس دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ ابتدائی معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کسی قسم کی واضح یقین دہانی شامل نہیں۔
‎مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر ان مذاکرات کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ دنیا بھر کی نظریں اب امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

More posts