امریکی فوجی کمان سینٹ کام نے ایرانی شہریوں کے لیے ہنگامی ہدایت جاری کرتے ہوئے انہیں گھروں کے اندر رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ امریکی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ ایرانی افواج گنجان آباد شہری علاقوں کو ڈرون اور میزائل حملوں کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق تہران شہری علاقوں کو عسکری کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہا ہے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دی جا رہی ہے۔
سینٹ کام کے اعلامیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی افواج خاص طور پر گنجان آباد مقامات کو ڈرون اور میزائل حملوں کے لیے استعمال کر رہی ہیں جس سے شہری آبادی خطرے میں پڑ رہی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق شہری آبادی کو عسکری کارروائیوں کے لیے انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا بین الاقوامی قانون کے تحت سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت وہ مقامات جو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیے جائیں اپنی حفاظتی حیثیت کھو دیتے ہیں اور ایسے مقامات قانونی طور پر فوجی ہدف بن سکتے ہیں چاہے وہ شہری علاقوں کے قریب ہی کیوں نہ ہوں۔
امریکی حکام نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے کے اقدامات نہ صرف خطے کے امن کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ ایرانی شہریوں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
امریکی فوج کا ایرانی شہریوں کو گھروں میں رہنے کا مشورہ
