امریکی حکام نے ایران پر معاشی اور سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے ایرانی تیل بردار ٹینکرز کو ضبط کرنے کے ممکنہ اقدام پر غور شروع کر دیا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اس منصوبے کا مقصد ایران کی سب سے بڑی آمدنی یعنی تیل کی برآمدات کو نشانہ بنا کر تہران کو اپنی پالیسیوں میں سخت اقدامات پر مجبور کرنا ہے۔
اخبار کے مطابق وائٹ ہاؤس میں اس اقدام پر بحث ہو رہی ہے اور اسے ایران کے جوہری مذاکرات کے عمل میں ایک آپشن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاکہ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں امریکی حکومت کے پاس متعدد متبادل آپشنز موجود ہوں۔
تاہم امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ ٹینکرز کو ضبط کرنے کے دوران ایران جوابی کارروائی کر سکتا ہے، جس میں آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانا یا خطے میں امریکی اتحادی ممالک کے آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانا شامل ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ چند ماہ میں امریکا نے متعدد ایسے جہاز ضبط کیے ہیں جو ایران کے ’’شیڈو فلیٹ‘‘ یعنی خفیہ بیڑے کا حصہ سمجھے جاتے ہیں، جو پابندیوں کے باوجود تیل منتقل کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا ایران کے ٹینکرز کو ضبط کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ ایران کی معیشت پر دباؤ ڈالے گا اور خطے میں تیل کی قیمتوں اور عالمی مارکیٹ پر اثر ڈال سکتا ہے، جبکہ ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی خطے میں کشیدگی بڑھا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں فوجی کارروائی کی بھی تیاری کر رہا ہے، اور سابق صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ مذاکرات ناکام ہوئے تو ایران پر حملے کے لیے دوسرا طیارہ بردار بحری بیڑہ بھیجا جا سکتا ہے۔
ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے امریکی حکام کا تیل بردار جہازوں کو ضبط کرنے پر غور
