Baaghi TV

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی،امریکا کا میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ تعینات کرنے کا فیصلہ

US sending rapid response Marine unit to the Middle East

واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پیش رفت سے باخبر تین امریکی حکام نے امریکی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ یہ یونٹ ہنگامی حالات میں فوری ردِعمل دینے والی فورس ہوتی ہے۔

حکام کے مطابق میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ عام طور پر تقریباً 2500 میرینز اور بحریہ کے اہلکاروں پر مشتمل ہوتی ہے، جو سمندر اور خشکی دونوں محاذوں پر کارروائی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس یونٹ کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا یا اسے خطے میں کس مقام پر تعینات کیا جائے گا۔فوجی ماہرین کے مطابق ایسے یونٹس ماضی میں بڑے پیمانے پر انخلا کی کارروائیوں، سمندر سے خشکی تک فوجی آپریشنز، چھاپہ مار کارروائیوں اور حملوں کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ان یونٹس میں زمینی اور فضائی جنگی دستے بھی شامل ہوتے ہیں، جبکہ بعض دستوں کو خصوصی آپریشنز کے لیے بھی تربیت دی جاتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس یونٹ کی تعیناتی سے امریکی فوجی کمانڈرز کو خطے میں پیدا ہونے والی مختلف ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مزید آپشنز دستیاب ہو جائیں گے۔

دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے حکام اس سے پہلے یہ کہہ چکے ہیں کہ فی الحال متعلقہ ملک میں امریکی زمینی فوج بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں، تاہم انہوں نے اس امکان کو مکمل طور پر مسترد بھی نہیں کیا۔امریکی اخبار دی وال سٹریٹ جرنل نے سب سے پہلے اس تعیناتی کی خبر رپورٹ کی تھی، جس کے بعد خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اس فیصلے کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

More posts