امریکا کی سپریم کورٹ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں نافذ کیے گئے عالمی تجارتی ٹیرف اقدامات کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ اقدامات وفاقی قانون اور آئینی تجارتی اختیارات سے متصادم تھے اور امریکی صارفین و معیشت پر غیر ضروری مالی بوجھ ڈال رہے تھے۔
عدالت کے مطابق سابقہ انتظامیہ نے درآمدات پر عائد کئی ٹیرف کانگریس کی واضح منظوری کے بغیر نافذ کیے، جو امریکی آئین میں طے شدہ تجارتی طریقہ کار کی خلاف ورزی ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ بین الاقوامی تجارت سے متعلق اختیارات بنیادی طور پر کانگریس کے پاس ہوتے ہیں، اس لیے صدارتی سطح پر ایسے اقدامات قانونی حدود سے تجاوز شمار ہوتے ہیں۔
ماہرین معاشیات کے مطابق اس فیصلے کے بعد امریکا میں درآمدی اشیا کی قیمتوں میں کمی آنے کا امکان ہے، کیونکہ اضافی محصولات ختم ہونے سے کاروباری لاگت کم ہوگی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے امریکی صارفین کو فوری ریلیف مل سکتا ہے جبکہ سپلائی چین پر دباؤ بھی کم ہوگا۔
بین الاقوامی سطح پر اس فیصلے کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تجارتی حلقوں کا خیال ہے کہ اس سے امریکا اور اس کے بڑے تجارتی شراکت داروں، خصوصاً چین اور یورپی ممالک، کے ساتھ تعلقات میں نرمی آسکتی ہے اور مستقبل کے تجارتی مذاکرات زیادہ متوازن انداز میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔
سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ ریپبلکن رہنماؤں نے فیصلے پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے اسے سابق صدر کی اقتصادی پالیسیوں کے لیے دھچکا قرار دیا، جبکہ اقتصادی ماہرین کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام مارکیٹ میں استحکام اور قیمتوں میں توازن لانے میں مدد دے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف امریکی داخلی معیشت بلکہ عالمی تجارتی نظام کے لیے بھی ایک اہم قانونی نظیر بن سکتا ہے، جس کے اثرات آنے والے برسوں میں بین الاقوامی تجارت کی پالیسی سازی پر نمایاں رہیں گے۔
امریکی سپریم کورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف غیر آئینی قرار دے دیے
