امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے پاکستان کے دورے کی تیاریاں جاری ہیں، جہاں وہ ایران سے ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے اہم سفارتی بات چیت کریں گے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی معیشت کو مستحکم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات کا خواہاں ہے اور اس سلسلے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی واضح ہدایات کے تحت کام کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا خطے میں امن کے قیام کے لیے سنجیدہ ہے اور پاکستان اس عمل میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان اس وقت ایک نہایت حساس ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہے، جہاں اسے ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے لیے ثالثی کرنی ہے۔ بعض ماہرین اس مشن کو انتہائی مشکل قرار دے رہے ہیں، تاہم پاکستان کی حالیہ سفارتی کوششوں کو مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔
آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف نے حالیہ ہفتوں میں بھرپور سفارتی سرگرمیاں انجام دی ہیں تاکہ خطے میں ممکنہ جنگ کو روکا جا سکے۔ خاص طور پر پاکستان کی مغربی سرحدوں، ایران اور افغانستان کے ساتھ، کشیدگی میں اضافہ خطے کے استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پاکستان اس نازک صورتحال میں کامیاب ثالثی کر لیتا ہے تو یہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک بڑی سفارتی کامیابی ہوگی۔ اس سے عالمی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔
یہ دورہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کو ایک بار پھر عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی کردار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں پیچیدہ تنازعات کے حل کے لیے اس کی صلاحیتوں پر اعتماد کیا جا رہا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان روانگی کے لئے تیار
