واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکا ایران کی جانب ایک بڑا بحری بیڑا (آرماڈا) روانہ کر رہا ہے، تاکہ تہران کو اپنے جوہری پروگرام کی بحالی سے روکا جا سکے۔امریکی جنگی جہاز بڑی تعداد میں ایران کی طرف بڑھ رہے ہیں، صدر ٹرمپ نے یہ بیان سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں کے بعد ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران دیا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور امریکی بحری اثاثے خطے میں منتقل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا،“ہم نے احتیاطاً اس سمت کئی بحری جہاز بھیج دیے ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ کوئی تصادم ہو، لیکن ہم ایران کو بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ “ہماری ایک آرماڈا اس طرف جا رہی ہے، اور ممکن ہے ہمیں اسے استعمال کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔”
رائٹرز سے بات کرنے والے امریکی حکام کے مطابق، طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن اور کئی جدید گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز آئندہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ پہنچنے کی توقع ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ واشنگٹن ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی کی صورت میں امریکی فوجی اڈوں کے تحفظ کے لیے اضافی فضائی دفاعی نظام تعینات کرنے پر بھی غور کر رہا ہے۔یہ تعیناتیاں صدر ٹرمپ کے فوجی آپشنز میں مزید وسعت پیدا کرتی ہیں اور جون میں ایرانی جوہری تنصیبات پر ہونے والے امریکی حملوں کے بعد سامنے آئی ہیں۔ ان حملوں کو بین الاقوامی سطح پر بڑے پیمانے پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا تھا۔
امریکی جنگی جہاز گزشتہ ہفتے ایشیا پیسیفک خطے سے روانہ ہونا شروع ہوئے تھے، جب ایران بھر میں احتجاجی مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ ایران نے ان مظاہروں کے پیچھے امریکا پر الزامات عائد کیے ہیں، جبکہ صدر ٹرمپ نے مظاہرین کی ہلاکتوں پر ایران کو مداخلت کی دھمکیاں بھی دیں۔ تاہم بعد ازاں امریکی فضائی حملے منسوخ کر دیے گئے اور گزشتہ ہفتے مظاہروں میں کمی دیکھی گئی۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مطابق، ملک بھر میں ہونے والے کئی ہفتوں کے احتجاج کے دوران “کئی ہزار” افراد ہلاک ہوئے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا کی وارننگ کے بعد ایران نے تقریباً 840 افراد کی سزائے موت منسوخ کر دی ہیں۔ انہوں نے کہا،“میں نے کہا تھا کہ اگر تم نے ان لوگوں کو پھانسی دی تو تم پر پہلے سے کہیں زیادہ سخت حملہ ہوگا۔ یہ ہمارے جوہری حملوں کو بھی معمولی بنا دے گا۔”ٹرمپ کے مطابق یہ سزائیں نافذ ہونے سے صرف ایک گھنٹہ قبل منسوخ کی گئیں، جسے انہوں نے “مثبت پیش رفت” قرار دیا۔تاہم ایران کے اعلیٰ سرکاری پراسیکیوٹر محمد موحدی نے جمعے کو ٹرمپ کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا۔ عدلیہ کی خبر رساں ایجنسی میزان نیوز کے مطابق، موحدی نے کہا،“یہ دعویٰ مکمل طور پر غلط ہے، نہ تو ایسی کوئی تعداد موجود ہے اور نہ ہی عدلیہ نے اس نوعیت کا کوئی فیصلہ کیا ہے۔”
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اگر ایران نے اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کیا تو امریکا دوبارہ حملہ کرے گا۔ ان کا کہنا تھا،“اگر وہ دوبارہ ایسا کرنے کی کوشش کریں گے تو انہیں کسی اور جگہ جانا پڑے گا، اور ہم وہاں بھی اتنی ہی آسانی سے حملہ کریں گے۔”
واضح رہے کہ ایران میں احتجاجی مظاہرے 28 دسمبر کو تہران کے گرینڈ بازار میں مہنگائی اور معاشی مشکلات کے خلاف شروع ہوئے تھے، جو بعد میں پورے ملک میں پھیل گئے۔ رائٹرز کو ایک ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ ان مظاہروں میں ہلاکتوں کی تصدیق شدہ تعداد 5 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں 500 سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔
