امریکی خاتون نے فیس بک، انسٹاگرام اور یوٹیوب جیسی سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف عدالت سے رجوع کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کے پلیٹ فارمز بچوں کو مختصر ویڈیوز کا عادی بناتے ہیں، اور ان کے ڈیزائن پر حکومتی کنٹرول ہونا چاہیے—مقدمے میں ان کمپنیوں پر جان بوجھ کر لت لگانے والے فیچرز بنانے کا الزام ہے جو بچوں کے ذہنی صحت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
فیس بک کے بانی مارک زکربرگ عدالت میں پیش ہوئے، جہاں انہیں ناقابل تردید شواہد دکھائے گئے زکربرگ نے جواب دیا کہ 13 سال سے کم عمر بچوں کو اکاؤنٹ بنانے کی اجازت نہیں، مگر خاتون کا کہنا ہے کہ ڈیزائن ہی بچوں کو مسلسل استعمال پر مجبور کرتا ہے، جس سے ڈپریشن اور دیگر مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
یہ مقدمہ امریکا میں بچوں کی ذہنی صحت کے بحران کا حصہ ہے، جہاں زکربرگ پہلے کانگریس میں بھی پیش ہو چکے—یورپ میں اسپین اور فرانس جیسے ممالک سوشل میڈیا پر سخت قوانین لا رہے ہیں تاکہ بچوں کی حفاظت یقینی ہو۔
امریکی خاتون کا سوشل میڈیا کمپنیوں پر مقدمہ!
