Baaghi TV

آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ اپنی شناخت بارے الجھن کا شکار،حقائق کے برعکس باتیں

آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے سینئر بلے باز عثمان خواجہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد دیے گئے بیانات ایک بار پھر شدید بحث کا باعث بن گئے ہیں۔ عثمان خواجہ نے اپنے آخری ٹیسٹ میچ کے موقع پر دعویٰ کیا کہ انہیں آسٹریلیا میں نسل پرستی کا سامنا رہا، تاہم ان کے الزامات حقائق کے برعکس اور متنازع ہیں،عثمان خواجہ کو اپنی شناخت بارے بھی الجھن ہے کہ وہ پاکستانی ہیں یا سعودی یا آسٹریلوی

عثمان خواجہ ایک الجھی ہوئی شخصیت ہیں۔ آسٹریلیا میں پرورش پانے والا کنفیوژ دیسی، جو اپنی شناخت کے بارے میں الجھن کا شکار ہو۔ ریٹائرمنٹ کے وقت انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا نے ان کے ساتھ نسل پرستی کی۔کہاں؟ انہوں نے 88 ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں، نسل پرستی کہاں ہے؟ وہ کچھ عرصے سے فارم سے باہر تھے، فٹنس اور فیلڈنگ ان کے بڑے مسائل تھے۔ ان کے والد اور والدہ دونوں کا تعلق پاکستان سے ہے، خود عثمان کی پیدائش اسلام آباد میں ہوئی۔ اگر انہیں پاکستانی ہونے پر شرم ہے تو وہ کس پاسپورٹ پر آسٹریلیا پہنچے تھے؟

سعودی یا پاکستانی؟ ایک ناشکرے انسان، بادشاہ سے بھی زیادہ وفادار بننے کی کوشش۔ اور آسٹریلوی لوگ اس پر ہنستے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ وہ اپنی ہی جڑوں (پاکستان) کے ساتھ بھی مخلص نہیں ہے۔ پھر اس نے پی ایس ایل میں اسلام آباد کے لیے کیوں کھیلا اور کیوں کہا کہ وہ اپنے شہرِ پیدائش کے لیے کھیلنے پر فخر محسوس کرتا ہے؟ اگر پاکستان اسے پیسے دے تو سب ٹھیک، ورنہ اسے پاکستانی کہلانے پر شرم آتی ہے۔

اس کا بھائی چھ سال تک جیل میں رہا ، ارسلان خواجہ ،جس نے اس لڑکی کے بوائے فرینڈ پر جعلی دہشت گردی کا الزام لگایا جس سے وہ شادی کرنا چاہتا تھا، اور اسے سزا ہوئی۔ تو شاید آسٹریلیا کو بھی اس پر شرم آتی ہو، اگر اسے پاکستان پر شرم آتی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے، کیا محسن نقوی اور پی سی بی کبھی اسے پی ایس ایل میں کھیلنے کی اجازت دیں گے؟ دیکھتے ہیں۔ وہ آسٹریلیا سعودی یا پاکستانی پاسپورٹ پر آیا تھا۔ پیدائش کا ملک ماں جیسا ہوتا ہے، پتا نہیں سعودی عرب میں اس کی کوئی سوتیلی ماں بھی ہے یا نہیں، ہاہا۔

عثما ن خواجہ کا بھائی،ارسلان خواجہ ،یہ آسٹریلیا میں سرخیوں میں تھا ایک بے گناہ شخص پر جعلی دہشت گردی کا کیس بنانے کا الزام تھا،سڈنی کا رہائشی ارسلان طارق خواجہ، جس نے ایک ساتھی پر جھوٹے دہشت گردی کے الزامات لگا کر اسے ہائی سکیورٹی جیل بھجوا دیا، کو کم از کم دو سال اور چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔خواجہ نے اعتراف کیا کہ اس نے اگست 2018 میں یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کے اپنے ساتھی کامر نظام الدین کی نوٹ بک میں جعلی اندراجات کیے، کیونکہ وہ ایک مشترکہ خاتون دوست سے اس کے رابطے پر حسد کرتا تھا۔ان جعلی اندراجات میں اس وقت کے وزیرِاعظم میلکم ٹرن بل اور گورنر جنرل کو جان سے مارنے کی دھمکیاں، پولیس اسٹیشنز پر حملوں کی فہرستیں، اینزیک ڈے تقریب، باکسنگ ڈے ٹیسٹ اور سڈنی کے اہم مقامات بشمول سینٹ میری کیتھیڈرل پر حملوں کے منصوبے شامل تھے۔نیو ساؤتھ ویلز ڈسٹرکٹ کورٹ میں جج رابرٹ ویبر نے 40 سالہ ارسلان کو چار سال اور چھ ماہ قید کی سزا سنائی، جس میں دو سال اور چھ ماہ کی نان پیرول مدت شامل ہے۔

ارسالان خواجہ، جو آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ کا بھائی ہے، نے انصاف کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے اور سرکاری اہلکار کو بددیانتی سے متاثر کرنے کے الزامات میں جرم قبول کیا۔اس نے عدالت سے یہ بھی درخواست کی کہ سرکاری اہلکار کو دھوکہ دینے کے لیے جعلی دستاویز تیار کرنے اور گواہ کو جھوٹی گواہی دینے پر اکسانے جیسے اضافی معاملات کو بھی مدِنظر رکھا جائے۔نوٹ بک حکام کو پیش کرنے کے بعد، کامر نظام الدین کو گرفتار کیا گیا اور ایک ماہ تک ہائی سکیورٹی جیل میں رکھا گیا، یہاں تک کہ حقیقت سامنے آ گئی۔جج کے مطابق، ایک بے گناہ شخص کا زیادہ سکیورٹی جیل میں تنہائی سیل میں وقت گزارنا شدید ذہنی صدمے کا باعث بننا کوئی حیرت کی بات نہیں تھی۔خواجہ نے یہ بھی اعتراف کیا کہ 2017 میں اس نے ایک اور بے گناہ شخص کے خلاف، جس سے وہ حسد کرتا تھا، حکام کو فون کر کے ویزا اور دہشت گردی سے متعلق جھوٹے الزامات لگائے، جن میں یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ اس شخص نے بیرونِ ملک تربیت حاصل کی ہے۔اس کال میں اس نے اپنے بھائی کا نام بھی بطور ممکنہ ہدف لیا۔

More posts