Baaghi TV

وینزویلا کی عبرت اور پاکستان کی عظمت،تحریر :قمرشہزاد مغل

بقول شاعر
"تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جُرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات”

تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ قومیں صرف زمین سے نکلنے والے سونے یا تیل کے ذخائر سے محفوظ نہیں ہوتیں، بلکہ ان کی بقا کا ضامن وہ فولادی دفاع ہوتا ہے جس کے سامنے دشمن کے ارادے پاش پاش ہو جائیں۔ وینزویلا کی مثال آج کی دنیا کے لیے وہ نوحہ ہے جسے ہر خود مختار ریاست کو غور سے سننا چاہیے۔ 300 ارب بیرل تیل، وسیع رقبہ اور سنہری ساحل رکھنے والا یہ ملک نقشے پر قدرت کا شاہکار تھا، مگر اس کی بنیادیں کھوکھلی تھیں۔ وہاں بلند و بانگ نعرے تو تھے، مگر دفاع کی وہ ڈھال مفقود تھی جو کسی بھی قوم کی آخری پناہ گاہ ہوتی ہے۔ جب وقت نے کروٹ لی تو دنیا نے دیکھا کہ تیل کے کنویں ٹینکوں کا راستہ نہیں روک سکے اور نہ ہی بلند و بالا سڑکیں میزائلوں کے سامنے دیوار بن سکیں۔ جس ملک کے صدر کو اس کے بیڈروم سے اٹھا لیا گیا، اس نے ثابت کر دیا کہ اگر دفاع ناقابلِ تسخیر نہ ہو تو معیشت محض ایک عارضی سراب اور خود مختاری ایک خوشنما فریب ہے۔ مگر اسی عالمی نقشے پر ایک اور ریاست بھی ہے جس کا نام پاکستان ہے۔ ہمارے پاس شاید وینزویلا جتنا تیل نہیں، ہم شاید دنیا کی سب سے بڑی معیشت بھی نہیں، مگر ہمارے پاس وہ اثاثہ ہے جس کی ہیبت سے عالمی ایوانوں میں لرزہ طاری رہتا ہے۔

آج پاکستان جس پُراعتماد لہجے میں عالمی سطح پر اپنا موقف پیش کرتا ہے، اس کے پیچھے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر (فیلڈ مارشل کے بلند پایہ عزم کے حامل سپہ سالار) کی بصیرت اور قیادت کھڑی ہے۔ دشمن جب پاکستان کی طرف دیکھتا ہے تو اسے صرف ایک جغرافیہ نظر نہیں آتا، بلکہ اسے وہ جذبہِ ایمانی اور عسکری قوت نظر آتی ہے جس نے ناممکن کو ممکن بنا رکھا ہے۔جنرل سید عاصم منیر کا یہ تاریخی اور دلیرانہ اعلان کہ ہم کو لگا کہ ہم ڈوب رہے ہیں تو آدھی دنیا کو ساتھ لے کر ڈوبیں گے محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایٹمی پاکستان کی اس طاقت کا اظہار ہے جو دشمن کو اس کی حد میں رہنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ پیغام اس بات کی سند ہے کہ پاکستان کوئی آسان شکار نہیں جسے چند گھنٹوں کے آپریشن سے مفلوج کیا جا سکے۔ یہاں کی فضائیں بیدار ہیں، یہاں کے ریڈار دشمن کی ہر حرکت پر نظر رکھتے ہیں اور یہاں کے کمانڈ سینٹرز کبھی اندھیرے میں نہیں ڈوبتے۔ افواجِ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ قوموں کی زندگی وسائل سے زیادہ ان کی دفاعی صلاحیت اور سپہ سالار کے پختہ عزم سے وابستہ ہوتی ہے۔ آج اگر ہم اپنی سرحدوں کے اندر محفوظ ہیں، تو یہ اس آہنی حصار کا کرشمہ ہے جسے ہمارے شہداء کے لہو اور غازیوں کی ہمت نے سینچا ہے۔

دشمن جانتا ہے کہ پاکستان کا دفاع وہ چٹان ہے جس سے ٹکرانے والا خود پاش پاش ہو جائے گا۔ وینزویلا کی بربادی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ معیشت کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو، اگر محافظ کمزور ہوں تو سب کچھ ایک بٹن دبانے سے صفر ہو سکتا ہے۔ لیکن الحمدللہ پاکستان کا دفاع فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں آج اس مقام پر ہے جہاں ہم اپنے مستقبل کا فیصلہ کسی غیر کی دھمکی پر نہیں، بلکہ اپنی قومی غیرت کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے اور رہے گی کہ وسائل قوموں کو چمک دیتے ہیں، مگر افواج قوموں کو زندگی دیتی ہیں۔ پاک فوج زندہ باد، قائدِ اعظم کا پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔

More posts