سوشل میڈیا پر ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مبینہ مذاکرات سے متعلق گردش کرنے والے دعوے غلط اور گمراہ کن قرار دے دیے گئے ہیں۔ مختلف اکاؤنٹس، خاص طور پر ساؤتھ ایشیا انڈیکس ، آر ٹی اور دیگر پلیٹ فارمز کی جانب سے شیئر کی گئی معلومات کی حقیقت سامنے آنے کے بعد واضح ہوا ہے کہ ان میں کئی دعوے تصدیق شدہ نہیں تھے۔
تفصیلات کے مطابق ایک وائرل پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں 80 فیصد معاملات طے پا گئے تھے اور جلد دوسرا دور بھی متوقع ہے۔ تاہم اس دعوے کی کوئی مستند سرکاری یا بین الاقوامی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اسی طرح ایک اور پوسٹ میں کہا گیا کہ مذاکرات کا اگلا دور اسلام آباد میں مخصوص تاریخ کو ہوگا، جسے بعد میں فیک قرار دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ان خبروں میں استعمال ہونے والی معلومات یا تو غیر مصدقہ تھیں یا سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کی گئیں۔ بعض پوسٹس میں نامعلوم ذرائع کا حوالہ دے کر سنسنی پھیلانے کی کوشش کی گئی، جبکہ کسی بھی ذمہ دار حکومتی ادارے یا معتبر میڈیا نے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حساس عالمی صورتحال میں اس قسم کی غیر مصدقہ خبریں نہ صرف عوام کو گمراہ کرتی ہیں بلکہ سفارتی سطح پر بھی غلط فہمیاں پیدا کر سکتی ہیں۔ خاص طور پر ایران اور امریکا جیسے اہم ممالک کے حوالے سے پھیلائی جانے والی غلط معلومات کے اثرات زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔
حکام اور تجزیہ کاروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ہر خبر پر فوری یقین نہ کریں اور صرف مستند ذرائع سے تصدیق کے بعد ہی کسی اطلاع کو آگے بڑھائیں۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ڈیجیٹل دور میں معلومات کی درستگی کو جانچنا انتہائی ضروری ہو چکا ہے، تاکہ غلط خبروں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
فیکٹ چیک: ایران امریکا مذاکرات سے متعلق سوشل میڈیا دعوے غلط قرار
