کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے دنیا بھر میں جاری تنازعات کے تناظر میں واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خدا کے نام پر کی جانے والی جنگیں کسی صورت قابل قبول نہیں اور ایسے اعمال مذہب کی اصل روح کے خلاف ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق انہوں نے ویٹیکن کے سینٹ پیٹرز اسکوائر میں پام سنڈے کی دعائیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ جنگ کو مذہبی بنیادوں پر جائز قرار دیتے ہیں، وہ دراصل انسانیت اور اخلاقیات کے اصولوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
پوپ لیو نے زور دے کر کہا کہ جنگ کرنے والوں کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں کیونکہ مذہب کا مقصد امن، محبت اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے، نہ کہ تشدد یا تباہی کو جواز فراہم کرنا۔
انہوں نے عالمی رہنماؤں سے اپیل کی کہ فوری جنگ بندی کی جائے اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال کے بجائے مکالمہ ہی وہ راستہ ہے جو دیرپا امن کی ضمانت دے سکتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مختلف عالمی تنازعات میں شامل فریقین اپنے اقدامات کو مذہبی بنیادوں پر درست ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔
ماہرین کے مطابق پوپ کا یہ بیان ایک اہم اخلاقی پیغام ہے جو اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ مذہب کو جنگ کے لیے نہیں بلکہ امن کے قیام کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
خدا کے نام پر جنگ ناقابل قبول، پوپ لیو کا دوٹوک مؤقف
