کراچی میں پانی کا بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے کیونکہ پورٹ قاسم کے قریب پھٹنے والی مرکزی پانی کی لائن کی مرمت 30 گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل نہ ہو سکی، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی فراہمی بدستور معطل ہے۔
تفصیلات کے مطابق شہر گزشتہ ایک ہفتے سے شدید پانی کی قلت کا سامنا کر رہا ہے۔ ایک جانب اہم پائپ لائنیں پھٹنے کے واقعات پیش آئے جبکہ دوسری جانب بجلی کے بریک ڈاؤن نے پانی کی ترسیل کا نظام مزید متاثر کر دیا۔
حکام کے مطابق پہلے 84 انچ قطر کی مرکزی لائن متاثر ہوئی اور اس کے بعد پورٹ قاسم کے قریب 54 انچ قطر کی لائن پھٹ گئی، جس کے نتیجے میں کراچی کے بڑے حصے کو پانی کی سپلائی بند ہو گئی۔
مرمت کا کام تاخیر کا شکار ہونے سے لانڈھی، کورنگی، ملیر، شاہ فیصل کالونی، گلشن اقبال اور صدر ٹاؤن سمیت کئی علاقوں کے شہری شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور پانی کے حصول کے لیے پریشان ہیں۔
کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی خرابی کا ذمہ دار کے الیکٹرک کو قرار دیا ہے۔ ادارے کی جانب سے کے الیکٹرک کو ارسال کیے گئے مراسلے میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر 11 کے وی فیڈرز کی خرابی فوری دور نہ کی گئی تو رمضان المبارک کے دوران پانی کا بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
حکام کے مطابق لائنیں پھٹنے سے اب تک ہزاروں گیلن پانی ضائع ہو چکا ہے جبکہ لانڈھی اور شیر پاؤ ہائیڈرنٹس مکمل طور پر بند ہیں، جس سے ٹینکر سروس بھی متاثر ہوئی ہے۔
واٹر کارپوریشن نے عندیہ دیا ہے کہ اتوار کو متاثر ہونے والی لائن کی مرمت منگل تک مکمل کر لی جائے گی، تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ ماضی کے تجربات کے مطابق مرمت کے بعد بھی پانی کی فراہمی معمول پر آنے میں وقت لگتا ہے۔
کراچی میں پانی کا بحران مزید سنگین
