Baaghi TV

بنگلہ دیش کے معاملے میں وہی کیا جو کرنا چاہیے تھا، محسن نقوی

چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی نے حال ہی میں کہا ہے کہ ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کے معاملے میں پاکستان نے بالکل وہی قدم اٹھایا جو کرنا ضروری تھا۔ یہ اعلان پی ایس ایل کی فرنچائز ملتان کے آکشن کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران سامنے آیا۔
‎محسن نقوی نے بتایا کہ مسئلہ بنگلہ دیش کے ساتھ پیدا ہوا اور اس حوالے سے آئی سی سی کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی اور بنگلہ دیش سے آنے والی اطلاعات کا انتظار کیا جا رہا ہے اور جیسے ہی کوئی حتمی معلومات آئیں گی، اسے عوام کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔
‎پی سی بی چیئرمین نے مزید کہا کہ مہمان کو عزت دینا پاکستان کی روایت ہے اور نہ ہی وہ کسی قسم کے دباؤ یا دھمکیوں سے خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بنگلہ دیش ہمارے بھائی ہیں اور اسی وجہ سے ہم نے وہی اقدامات کیے جو اس موقع پر ضروری تھے۔
‎ذرائع کے مطابق، گزشتہ روز لاہور میں پی سی بی اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کئی اہم نکات طے کیے گئے۔ پاکستان نے بھارت کے ساتھ ہائبرڈ ماڈل کو 2031 تک جاری رکھنے کی شرط رکھی، جبکہ ورلڈ کپ 2031 میں پاکستان کے میچز بنگلہ دیش میں کروانے کی بات بھی کی گئی۔
‎دوسری جانب، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے آئی سی سی سے میچوں کی آمدنی میں حصہ دینے کی درخواست کی، جبکہ پاکستان کی جانب سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ آئی سی سی ضمانت دے کہ بھارتی ٹیم ایف ٹی پی کے تحت رواں سال ستمبر میں بنگلہ دیش کا دورہ کرے گی۔
‎میٹنگ میں پی سی بی کی نمائندگی چیئرمین محسن نقوی نے کی، جبکہ بنگلہ دیش کی جانب سے بورڈ کے صدر امین الاسلام شریک ہوئے۔ آئی سی سی کی طرف سے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ بھی موجود تھے۔
‎اس موقع پر پی سی بی نے واضح کیا کہ اگر بنگلہ دیش بورڈ کو راضی کر لیا جائے تو پاکستان بھی اس معاملے پر مطمئن ہو جائے گا۔ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کا موقف ہمیشہ واضح اور مستقل رہا ہے اور وہ ہر فیصلے میں ملکی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔
‎یہ ملاقات اس وقت سامنے آئی ہے جب آئی سی سی اور مختلف ممالک کے کرکٹ بورڈز کے درمیان عالمی کرکٹ کے شیڈول، میچز کی میزبانی، آمدنی کی تقسیم اور ٹیموں کے دوروں کے حوالے سے مسائل زیر بحث ہیں۔ پاکستان نے اپنی ذمہ داری کو برقرار رکھتے ہوئے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات مضبوط رکھنے پر زور دیا ہے تاکہ کرکٹ شائقین کے لیے ایک مثبت اور مستحکم ماحول یقینی بنایا جا سکے۔

More posts