دنیا بھر میں پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے چرچے جاری ہیں، جہاں ماہرین اور عالمی رہنما پاکستان کی ثالثی کو ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان کی بروقت اور مؤثر کوششوں کے باعث ایک ممکنہ بڑے تصادم کو ٹال دیا گیا، جس سے پورا خطہ تباہی کے دہانے سے واپس آ گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے نہایت متحرک اور مؤثر سفارتکاری کا مظاہرہ کیا۔ ان کی حکمت عملی اور عالمی رابطوں نے کشیدہ صورتحال کو سنبھالنے میں کلیدی کردار ادا کیا، جسے بین الاقوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔جنگ بندی کو ممکن بنانے میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سفارتی کاوشیں بھی نمایاں رہیں۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے مختلف عالمی دارالحکومتوں سے مسلسل رابطے رکھے اور فریقین کے درمیان اعتماد سازی میں اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں کشیدگی کم ہوئی اور مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ماضی میں متعدد مواقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت اور صلاحیتوں کا اعتراف کر چکے ہیں۔ حالیہ پیش رفت کے بعد عالمی برادری نے بھی تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر امن کے قیام میں قائدانہ کردار ادا کیا۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اس کامیاب ثالثی کے اثرات عالمی منظرنامے پر بھی مرتب ہو رہے ہیں، جہاں نہ صرف کشیدگی میں کمی آئی بلکہ اقتصادی استحکام کی امیدیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ سفارتی کوششیں جاری رہیں تو خطے میں پائیدار امن کے امکانات مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔عالمی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں "ویلڈن پاکستان” کی گونج اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف خطے بلکہ دنیا میں امن و استحکام کے لیے ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
پاکستان کی بروقت، مخلصانہ اور حکمتِ عملی پر مبنی سفارتکاری مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے حصول میں کلیدی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ یہ کامیابی ایک مرتبہ پھر اسلام آباد کے اُس کردار کی توثیق کرتی ہے جو ایک منتشر عالمی منظرنامے میں پل بنانے والے ملک کے طور پر سامنے آیا ہے۔یہ جنگ بندی محض وقتی توقف نہیں بلکہ کشیدگی پر امن کی ایک بڑی فتح ہے۔ پاکستان نے ثابت کر دیا کہ مکالمہ دنیا کے پیچیدہ ترین تنازعات کے حل کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایک دوراندیش رہنما کے طور پر ابھرے ہیں۔ ان کی ذاتی دلچسپی اور مخلصانہ ثالثی نے خطے کو ایک بڑی جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی ہر سفارتی کوشش پاکستان کے قومی مفاد اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے عین مطابق تھی۔ ان کی قیادت نے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بحال کر دیا ہے۔داخلی سکیورٹی نظام کی قیادت کے ساتھ ساتھ اعلیٰ سطحی سفارتکاری میں مرکزی کردار ادا کرنا ایک ایسا کارنامہ ہے جس نے عسکری اور سفارتی ہم آہنگی کی نئی مثال قائم کی ہے۔
کور کمانڈر کانفرنس کے اعلامیے نے اصولی مؤقف کے ساتھ واضح طور پر فریق بننے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ ایسے مؤقف کا بروقت اظہار پاکستان کے مثبت اور مخلص کردار کے نتائج کے تعین میں نہایت اہم ثابت ہوا۔ حقیقی ثالثی میں کوئی ہار یا جیت نہیں ہوتی، بلکہ کامیابی اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ فریقین اجتماعی بھلائی کے لیے کس حد تک لچک دکھاتے ہیں۔ پاکستان نے توازن برقرار رکھتے ہوئے دونوں جانب مساوی مفادات کو یقینی بنایا تاکہ دیرپا استحکام ممکن ہو سکے۔ یہ پیش رفت انسانیت کی جیت ہے۔ کشیدگی میں کمی کے ذریعے پاکستان نے خطے اور دنیا بھر میں کمزور طبقات کے روزگار اور زندگیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مدد دی ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں استحکام نے عالمی توانائی منڈیوں اور سپلائی چین پر دباؤ کم کیا ہے، جس سے دنیا بھر کے غریب طبقات کو ریلیف ملنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
اس تاریخی کامیابی کے باوجود ہمیں چوکس رہنا ہوگا۔ مخالف عناصر اپنے مفادات کے لیے اس کامیابی کو متنازع بنانے کی کوشش کریں گے تاکہ خطے کو دوبارہ بحران کی طرف دھکیلا جا سکے۔یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ کام ابھی مکمل نہیں ہوا۔ عارضی جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنا اور پھر علاقائی استحکام و خوشحالی کی طرف بڑھنا ہماری اگلی منزل ہے۔پاکستان نے منفی پروپیگنڈے اور جھوٹے بیانیوں کو مؤثر انداز میں رد کرنے کی غیر معمولی صلاحیت دکھائی ہے، تاہم معلوماتی میدان میں دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے بیک وقت متعدد سنگین بحرانوں سے نمٹنے کی غیر معمولی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں ثالثی، آپریشن "غضب للحق” اور اندرونی انسدادِ دہشتگردی کے اقدامات کے دوران ریاست مضبوط اور ثابت قدم رہی۔ ان تمام سکیورٹی اور سفارتی محاذوں کو سنبھالتے ہوئے پاکستان نے اپنی معاشی استحکام کو بھی برقرار رکھا۔ عالمی سطح پر بڑھتا ہوا اعتماد معاشی فوائد میں تبدیل ہو رہا ہے اور اہم معاشی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات ایک روشن اور مستحکم مستقبل کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔
ان بے شمار کامیابیوں کے ذریعے پاکستان ایک ایسے ملک کے طور پر ابھرا ہے جو صرف بحرانوں کا سامنا نہیں کرتا بلکہ ان کا حل بھی پیش کرتا ہے، الحمدللہ۔پاکستان ہمیشہ زندہ باد
