Baaghi TV

ہنی ٹریپ کرتی انٹی کرپشن کا احتساب کب ہوگا ؟ تحریر:ملک سلمان

malik salman

چھوٹے سرکاری ملازمین کی پکڑ دھکڑ زوروں پر ہے۔ جبکہ یہ چھوٹے ملازمین بیچارے تو ان بڑوں(بیوروکریسی) کے لئے اکٹھا کرتے کرتے بدنام ہوتے ہیں ،جن کیلئے مال اکٹھا کرتے ہیں وہی اپنی فیس سیونگ کیلئے انکو معطل ، برطرف کردیں یا سب کے سامنے گالیاں نکال لے چھوٹوں نے زبان نہیں کھولنی۔

نمبر گیم کیلئے اینٹی کرپشن کا ”ہنی ٹریپ“ مشن چل رہا ہے ہر کوئی سہما ہوا ہے جبکہ سرکاری محکمے خاص طور پر ریونیو کام "فل سٹاپ” ہوچکے۔دوسروں کے خلاف کریک ڈاؤن جبکہ انٹی کرپشن میں ڈیپوٹیشن پر آئے بہت سارے ملازمین کے بارے زبان زدعام ہے کہ ان پر مال بنانے کی وحشت طاری ہے، انٹی کرپشن میں تعینات لاڈلے رینکر افسر یورپی ملک میں کس کی ہیوی انویسٹمنٹ کرکے آئے ہیں؟ پرائیویٹ افراد اور اوورسیز پاکستانیوں کو انٹی کرپشن کے غیرسرکاری عقوبت خانوں میں رکھ کر لین دین کلئیر کروانا کس مفاد کے تحت ہوتا رہا ؟
انٹی کرپشن ایکٹ کے تحت انسپکٹر رینک سے نیچے کے آفیسر کو انویسٹیگیشن آفیسر نہیں بنایا جاسکتا لیکن موجودہ انٹی کرپشن میں ایسی مثالیں سامنے ہیں جہاں سب انسپکٹر ناصرف انویسٹیگیشن آفیسر ہے بلکہ سرکل آفیسر بھی بنے ہوئے ہیں ۔
اس سے زیادہ مضحکہ خیز بات کیا ہوسکتی ہے کہ مالی بدعنوانی اور رشوت ستانی میں انٹی کرپشن سے گرفتار ہونے والا اس وقت سرکل آفیسر اور انویسٹیگیشن آفیسر انٹی کرپشن تعینات ہے ۔انٹی کرپشن کی طرح ہی سی سی ڈی میں کئی افسران ناصرف بدتر سروس ریکارڈ کے حامل ہیں بلکہ محکمانہ سزایافتہ بھی ہیں وہ ” ڈریکولا“ بنے ہوئے ہیں ۔کئی مثالیں ہیں جہاں سی سی ڈی کے چھوٹے اور بڑے افسران کے اثاثہ جات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔سی سی ڈی ،سی ٹی ڈی اور لاہور پولیس ڈی پی او ساز فیکٹری کا کردار ادا کررہے ہیں سی سی ڈی چیف اس ریس میں ناصرف آگے ہیں بلکہ فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں ۔
سنئیر سیٹوں پر لگائے گئے جونئیر افسران سرکاری امور کی بجائے سیٹ پر لانے والے ”باس “کی وفاداری اور احکامات بجا لانا فرض اولین سمجھتے ہیں ۔احتساب کا دعوی اور تمام امیدیں یہیں ختم ہوجاتی ہیں جب گریڈ بیس تک کے افسران کے احتساب کی ذمہ داری گریڈ 17کے ڈی ایس پی کو دے دی جائے۔ ایک ڈی ایس پی اپنے سنئیر ایس پی، ایس ایس پی یا ڈی آئی جی کا احتساب تو درکنار گردن جھکائے بن ان کی طرف دیکھ بھی نہیں سکتے کیونکہ انہی سنئیر سے اس نے اپنی اے سی آر لکھوانی ہے۔اسی طرح انسپکٹر لیول کا ضلعی سرکل آفیسر ڈی پی او اور ایس پی کا احتساب کرسکتا ہے ؟انٹی کرپشن کے اپنے افسران میں کوئی ایک بھی ریجنل ڈائریکٹر نہیں لگایا گیا حتیٰ کہ ضلعی سرکل افسران کی اکثریت بھی پولیس کے انسپکٹر اور مخصوص ضلع میں سب انسپکٹر سرکل آفیسر ہے۔

انٹی کرپشن میں 2010 میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر بھرتی ہونے والوں میں اب تک صرف آدھے بیج کو 16سال میں صرف ایک پرموشن مل سکی ہاف بیج آج بھی اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہی ہے جبکہ ان کو اب تک ڈائریکٹر پرموٹ ہوجانا چاہئے تھا ۔اسی طرح 2012میں انسپکٹر آنے والے 16سال میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر سے آگے نہیں جاسکے۔ دوسروں کا احتساب کرنے سے پہلے انٹی کرپشن کو اپنا احتساب کرنا چاہئے، محکمانہ افسران کو کھڈے لائن لگانے کی بجائے انہیں ناصرف پوسٹنگ دی جائے بلکہ محکمانہ ترقی کی مساوی حقوق اور مواقع بھی دیے جائیں ۔ سنگین کرپشن کی شکایات پر ایل ڈبلیو ایم سی، ستھرا پنجاب اور ورلڈ بینک فنڈد پروگرامات سمیت دیگر محکموں میں ریکارڈ کرپشن والوں کے خلاف کاروائی ہونے جارہی ہے خوش آئند لیکن سہیل ظفر چٹھہ کی 43ماہ کی طویل ترین پوسٹنگ میں کسی ایک پی ایس پی کو کرپشن پر گرفتار کیا گیا ؟اسی طرح ماضی میں کبھی پولیس تو کبھی پاکستان ایڈمنسٹریٹیو سروس اور پی ایم ایس کو انٹی کرپشن کی کمانڈ دی جاتی رہی ہے جس کا نتیجہ ہے کہ انٹی کرپشن محکمہ بن ہی نہیں سکا ہر کوئی اپنی قبیل کا محافظ بن کر ابلائج کلچر کو پروان چڑھاتا رہا۔

آرمی واحد ادارہ ہے جہاں پیسہ ،کورس میٹ ،تعلق یا رشتہ داری کوئی بھی چیز آفیسر کے فرض کی راہ میں آڑے نہیں آسکتی ۔بہت ساری مثالیں ہیں جہاں انٹیلیجنس کے افسران نے اپنے ہی کورس میٹ اور رشتہ داروں تک کیلئے ایک فیصد نرمی نہیں دکھائی اور وطن عزیز کے مفاد کو مقدم جانا۔ انٹی کرپشن کو غیر جانبدار ادارہ بنانے کیلئے واحد حل یہی ہے کہ انٹی کرپشن کی کمانڈ کسی برگیڈئیر لیول کے سنئیر آفیسر کو دی جائے اور اسی طرح تمام ڈویژن کے ریجنل ڈائریکٹر لیفٹنینٹ کرنل رینک کے افسران ہوں جو سب سے پہلے انٹی کرپشن کے اندر کا گند ختم کریں اور پھر صوبے کو عملی طور پر کرپشن سے پاک کریں ۔ایف آئی اے، نیب، انٹی کرپشن جیسے ادارے احتساب کی بجائے لامحدود طاقت اور کمائی کے اڈے بن چکے ہیں ہر دوسرا افسر شکار کی تلاش میں ہوتا ہے۔ بلاامتیاز احتساب کا خواب اس وقت پورا نہیں ہوسکتا جب تک احتساب کے اداروں کو پی ایس پی (پولیس)سے آزاد نہیں کروایا جاتا۔ اگر احتساب کے ادارے انہی پی ایس پیز کے حوالے رہیں گے تو پھر وہی قاتل منصف کے مصداق صرف چھوٹے ملازمین کو ہی قربانی کا بکرا بنایا جاتا رہے گا اور اشرافیہ یعنی بیوروکریسی بیج میٹ اور سنئیر ابلائجمنٹ میں احتساب سے بالا تر مخلوق ہی رہے گی۔ اداروں کی مضبوطی اور بلاتفریق احتساب کیلئے انٹی کرپشن ،ایف آئی اے اور نیب کی وفاقی ،صوبائی اور ڈویژنل کمانڈ فوجی افسران کے حوالے کرنا ناگزیر ہے تاکہ پاکستانی عوام کو پھر سے یقین کامل ہوسکے کہ کوئی بھی احتساب سے بالا تر نہیں۔

ملک سلمان
maliksalman2008@gmail.com

More posts