Baaghi TV

اسپین نے امریکی فوجی مشن میں تعاون پر آمادگی ظاہر کی،وائیٹ ہاؤس،اسپین کی تردید

وائیٹ ہاؤس نے بدھ کے روز دعویٰ کیا ہے کہ اسپین نے ایران کے خلاف امریکی فوجی مشن میں تعاون پر آمادگی ظاہر کر دی ہے، تاہم اسپین کی حکومت نے اس دعوے کی سختی سے تردید کر دی ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت پیغام کے بعد اسپین نے “امریکی فوج کے ساتھ تعاون پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔” ان سے سوال کیا گیا تھا کہ اگر امریکا اسپین پر تجارتی پابندی عائد کرتا ہے تو یہ یورپی یونین کی رکنیت کے تناظر میں کیسے ممکن ہوگا۔لیوٹ کا کہنا تھا کہ امریکی فوج اس وقت اسپین میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور صدر ٹرمپ توقع رکھتے ہیں کہ “تمام یورپ اور ہمارے یورپی اتحادی اس مشن میں تعاون کریں گے۔” انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایرانی حکومت یورپی ممالک کے لیے بھی خطرہ ہے۔

تاہم اسپین کے وزیر خارجہ نے ایک مقامی ریڈیو انٹرویو میں وائٹ ہاؤس کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ “ہماری پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔”اسی طرح اسپین کے وزیر اعظم ، جو یورپ میں ٹرمپ پالیسیوں کے سخت ناقد سمجھے جاتے ہیں، نے ٹیلی وژن خطاب میں کہا کہ اسپین کسی ایسی کارروائی میں شریک نہیں ہوگا جو “دنیا کے لیے نقصان دہ ہو یا ہمارے اقدار اور مفادات کے خلاف ہو، صرف اس لیے کہ کسی کے انتقامی اقدامات سے بچا جا سکے۔”

ادھر امریکی محکمہ دفاع کے سربراہ نے جنوبی ایران کے شہر مناب میں ایک گرلز پرائمری اسکول پر مبینہ حملے کی تحقیقات کی تصدیق کی۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اس حملے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، تاہم وائٹ ہاؤس نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔کارولین لیوٹ نے اس حوالے سے کہا، “جہاں تک ہمیں علم ہے، امریکا شہریوں کو نشانہ نہیں بناتا۔” ان کا کہنا تھا کہ امریکا صرف “باغی ایرانی حکومت” کو نشانہ بنا رہا ہے اور ایران پروپیگنڈا مہم کے ذریعے حقائق کو مسخ کر رہا ہے۔

پریس بریفنگ کے دوران لیوٹ نے یہ بھی کہا کہ امریکا کے پاس ایران کے خلاف طویل جنگ جاری رکھنے کے لیے “ضرورت سے زیادہ صلاحیت اور اسلحہ موجود ہے۔” ان کے مطابق امریکا نہ صرف موجودہ فوجی آپریشن کو کامیابی سے جاری رکھ سکتا ہے بلکہ “اس سے کہیں آگے جانے کی بھی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔”یہ بیان صدر ٹرمپ کے اُس سوشل میڈیا پیغام کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ امریکا کے پاس اسلحہ کا اچھا ذخیرہ موجود ہے لیکن “ہم وہاں نہیں ہیں جہاں ہم ہونا چاہتے ہیں۔”لیوٹ نے وضاحت کی کہ صدر کا اشارہ سابق انتظامیہ کی جانب سے یوکرین کو فراہم کیے گئے اسلحہ کی طرف تھا، نہ کہ موجودہ فوجی تیاریوں میں کسی کمی کی طرف۔

More posts