نیویارک میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنی تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سات تصاویر کی تصدیق کی ہے جن میں جنوبی لبنان کے رہائشی علاقے یوحمر پر وائٹ فاسفورس کے گولے فائر ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے جنوبی لبنان کے گنجان آباد رہائشی علاقوں میں یہ گولے استعمال کیے۔ تین مارچ کو ہونے والے ان حملوں کے نتیجے میں کم از کم دو گھروں میں آگ لگ گئی جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ وائٹ فاسفورس کے اثرات نہایت خطرناک ہوتے ہیں اور یہ موت یا انتہائی سنگین زخموں کا سبب بن سکتے ہیں جو متاثرہ افراد کے لیے عمر بھر کی تکلیف میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
تنظیم کے مطابق وائٹ فاسفورس ہوا میں آکسیجن کے ساتھ رابطے میں آتے ہی بھڑک اٹھتا ہے جس سے گھروں، زرعی زمینوں اور دیگر شہری املاک کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کا دعویٰ، جنوبی لبنان میں وائٹ فاسفورس کے گولے فائر
