مشرقِ وسطیٰ میں کرد عوام ایک ایسی نسلی اقلیت ہیں جن کے پاس آج تک کوئی آزاد اور خودمختار ریاست موجود نہیں۔ دنیا بھر میں کردوں کی مجموعی آبادی کے بارے میں مختلف اندازے سامنے آتے ہیں جو تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ سے 4 کروڑ 50 لاکھ کے درمیان بتائے جاتے ہیں۔ ان کی بڑی تعداد اس پہاڑی خطے میں آباد ہے جو ایران، عراق، ترکی، شام اور آرمینیا کے مختلف حصوں پر پھیلا ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق کردوں کی سب سے بڑی آبادی ترکی میں رہتی ہے، جہاں یہ ملک کی سب سے بڑی نسلی اقلیت سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم درست اعداد و شمار دستیاب نہیں کیونکہ خطے کے کئی ممالک اپنی مردم شماری میں نسلی شناخت کو باقاعدہ طور پر درج نہیں کرتے۔پہلی جنگ عظیم کے بعد جب سلطنتِ عثمانیہ کا خاتمہ ہوا تو اتحادی طاقتوں نے موجودہ مشرقی ترکی کے علاقے میں ایک آزاد کرد ریاست بنانے کی تجویز پیش کی تھی۔ تاہم نئی ترک حکومت نے اس منصوبے کو سختی سے مسترد کر دیا جس کے بعد یہ منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔ اس کے بعد سے کرد عوام مختلف ممالک میں تقسیم ہو کر رہنے پر مجبور ہیں۔
کردوں کی اکثریت سنی مسلمان ہے، تاہم کرد معاشرہ مذہبی اور ثقافتی طور پر انتہائی متنوع ہے۔ ان میں مختلف مذہبی روایات، سماجی ڈھانچے اور سیاسی نظریات پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح کرد زبان بھی کئی مختلف بولیوں پر مشتمل ہے جو مختلف علاقوں میں بولی جاتی ہیں۔برطانوی حکومتی اندازوں کے مطابق ایران میں کرد آبادی مجموعی آبادی کا تقریباً 8 فیصد سے 17 فیصد تک ہو سکتی ہے۔ ایران کے مغربی علاقوں میں آباد کرد برادری طویل عرصے سے زیادہ خودمختاری، سیاسی حقوق اور ثقافتی آزادیوں کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں، خصوصاًایمنسٹی انٹرنیشنل، نے ایران میں کردوں کے خلاف متعدد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق کرد زبان کی تعلیم پر کئی جگہ پابندیاں عائد ہیں،بعض کرد نام سرکاری طور پر رجسٹر نہیں کیے جا سکتے،کرد کارکنوں کو اکثر من مانی گرفتاریوں اور حراست کا سامنا کرنا پڑتا ہے
ایران کے کرد علاقوں میں کئی مسلح گروہ دہائیوں سے حکومت کے خلاف سرگرم ہیں۔ یہ گروہ زیادہ تر ایران۔عراق سرحد کے قریب اپنے ٹھکانے رکھتے ہیں جہاں سے وہ کارروائیاں کرتے ہیں۔ اندازوں کے مطابق ان گروہوں کے پاس ہزاروں مسلح افراد موجود ہیں۔حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے ایران کے کرد مسلح گروہوں کو اسلحہ فراہم کرنے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے تاکہ ایران کے اندر عوامی بغاوت کو ہوا دی جا سکے۔اس منصوبے سے واقف متعدد افراد نے بتایا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد کئی ایرانی کرد تنظیموں نے بھی بیانات جاری کیے ہیں جن میں ممکنہ کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے ایرانی فوجی اہلکاروں سے حکومت کے خلاف بغاوت کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ صورتحال مزید آگے بڑھتی ہے تو ایران کے مغربی علاقوں میں ایک نیا محاذ کھلنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور سلامتی پر پڑ سکتے ہیں۔
