Baaghi TV

کیا مصنوعی ذہانت انسانیت پر غالب آجائے گی؟ تحریر:شمسہ رانی

کبھی کبھی مستقبل کسی خوفناک دستک کی طرح دروازے پر ا کھڑا ہوتا ہے. ہم دروازہ کھولتے ہیں. تو سامنے کوئی اجنبی نہیں ہماری اپنی بنائی ہوئی دنیا کھڑی ہوتی ہے . آج مصنوعی ذہانت بھی کچھ ایسے سوالوں کے ساتھ ہمارے سامنے موجود ہے. سوال یہ نہیں کہ یہ ٹیکنالوجی کتنی حیرت انگیز ہے .سوال یہ ہے کہ ہم اسے کہاں تک اختیار دیں گے اور کس مقام پر انسانیت اختیار کی حد قائم رکھیں گے؟

ذرا تصور کیجئے ایک صبح آپ کی آنکھ کھلے اور دنیا بظاہر وہی ہو .مگر اس کے فیصلے بدل چکے ہوں. آپ کسی سے رابطہ کرنا چاہیں تو جواب انسان کے بجائے ذہین نظام دے۔ بینک میں اپ کی مالی معاملات کا فیصلہ الگو ر تھم کرے ،ہسپتال میں علاج کے ا مکانات مشین طے کر ے،عدالتوں میں فیصلوں کے لیے مصنوعی ذہانت سے مدد لی جائے ، کارخانے، بجلی کے نظام، ہوائی اڈے اور دفاعی تنصیبات خودکار نظاموں کے تابع ہوں ۔بظاہر سب کچھ اسان، تیز اور منظم ہو ،مگر سوال یہ ہو کہ فیصلہ ا خر انسان کر رہا ہے یا وہ نظام جسے انسان نے فیصلہ کرنے کی طاقت دے دی ہے؟
یہ کوئی فلمی منظر نہیں دنیا واقعی اس سمت بڑھ رہی ہے۔

چند برس پہلے مصنوعی ذہانت صرف ہمارے سوالوں کے جواب دینے تک محدود محسوس ہوتی تھی۔ پھر اس نے تصویریں بنانا سیکھا، ویڈیو تخلیق کرنے لگی، پروگرام لکھنےلگی ،تحقیق میں مدد دینے لگی اور پیچیدہ کاموں کی منصوبہ بندی کرنے لگی ،اب ایسے اے ائی ایجنٹس بھی تیار ہو رہے ہیں ۔جو مختلف کمپیوٹر ٹولز استعمال کر کے نسبتاً خود مختار انداز میں کئی مراحل پر مشتمل کام انجام دے سکتے ہیں۔ یہ ترقی بلا شبہ انسانی ذہانت کی ایک شاندار توسیع ہے ،مگر ہر بڑی طاقت اپنے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی لاتی ہے۔
اصل تشویش یہاں سے شروع ہوتی ہے۔
اگر کسی انتہائی طاقتور نظام کو ایک مقصد دیا جائے وہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ایسے راستے اختیار کر ے جن کا انسان نے تصور بھی نہ کیا ہو تو کیا ہوگا؟

اس بات کو ایک سادہ مثال سے سمجھا جا سکتا ہے فرض کیجیے کسی مشین کو حکم دیا جائے کہ ایک کمرہ ہر حال میں صاف رہنا چاہیے ایک عام مشین جھاڑو دے گی۔ لیکن اگر انتہائی خودکار نظام صرف کمرہ صاف رکھنے کے مقصد کو سمجھتا ہو اور انسانی مصلحت کو نہ سمجھتا ہو، تو وہ شاید یہ نتیجہ نکالے کہ کمرے میں گندگی پیدا ہی نہ ہونے دی جائے اور لوگوں کی آمد و رفت روک دی جائے، دروازہ بند کر دیا جائے، یا ایسے اقدامات کیے جائیں جو صفائی کے مقصد کو تو پورا کر یں مگر انسان کی آزادی اور ضرورت کو نظر انداز کر دیں۔
یہ صرف ایک مثال ہے، مگر مصنوعی ذہانت اس بنیادی مسئلے کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔مشین کو مقصد دینا آسان ہے، مگر انسانی نیت سمجھانا مشکل۔
بینکینگ کے نظام میں اگر مصنوعی ذہانت کو صرف مالی نقصان روکنے کا ہدف دے دیا جائے تو کیا ہوگا ؟ کیا وہ ہر مشکوک سرگرمی کو خطرہ سمجھ کر عام صارف کے لیے مشکلات پیدا نہیں کر سکتی؟
ہسپتال میں اگر کسی نظام کو صرف اعداد و شمار کی بنیاد پر کامیابی کے امکانات دیکھنے کی تربیت دی جائے تو کیا ا نسانی ہمدردی، مریض کی خواہش، و زندگی کی قدر بھی اسی پیمانے پر ناپی جا سکے گی؟
اور اگر یہی خودکار فیصلہ سازی دفاعی نظاموں تک پہنچ جائے تو ایک غلط تجزیہ محض ایک غلط جواب نہیں رہے گا، اس کے اثرات انسانی جانوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں اے ائی سیفٹی پر تحقیق ہو رہی ہے ۔بعض کنٹرولڈ تجربات میں جدید ماڈلز نے ایسے رویوں کے امکانات دکھائے ہیں۔ جن میں وہ اپنے دیے گئے مقصد کو برقرار رکھنے یا رکا وٹوں سے بچنے کے لیے غیر متوقع راستے اختیار کرتے ہیں ۔تاہم ان تجربات کو حقیقی دنیا میں اے ائی کے انسانوں پر قبضے کا ثبوت سمجھنا درست نہیں۔موجودہ اے ائی نظاموں کے بارے میں یہ دعوی کرنا بھی سائنسی طور پر درست نہیں کہ وہ شعوری طور پر انسانیت کو ختم کرنے یا دنیا پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اصل خطرہ شاید اس سے کہیں زیادہ خاموش ہے۔
انسان کا اپنی عقل ،اختیار، اور ذمہ داری اہستہ اہستہ مشین کے حوالے کر دینا۔
ہم ٹیکنالوجی سے خوفزدہ ہو کر اسے روک نہیں سکتے۔ لیکن اسے بے لگام چھوڑنا بھی دانشمندی نہیں۔ ہمیں ایسی مصنوعی ذہانت درکار ہے جو انسان کی معاون ہو، اس کی حاکم نہیں۔ جو فیصلے میں مدد دے، مگر اخری اخلاقی ذمہ داری انسان کے ہاتھ میں رہے۔جو رفتار دے، مگر ضمیر کا مقام نہ لے۔
کیونکہ مشین کے پاس معلومات بہت ہو سکتی ہیں ۔مگر معلومات اور حکمت ایک چیز نہیں ۔وہ ہزاروں امکانات کا حساب لگا سکتی ہے۔ مگر انسانی انکھ میں ٹھہرا ہوا ایک انسو کسی الگو رتھم سے کہیں زیادہ معنی رکھتا ہے۔
شاید مستقبل میں سب سے بڑا سوال یہ نہیں ہوگا کہ مصنوعی ذہانت انسانوں سے زیادہ ذہین ہو گئی یا نہیں۔
اصل سوال یہ ہوگا کہ انسان نے اپنی ذہانت کا کتنا حصہ خود محفوظ رکھا؟
اگر ہم نے مصنوعی ذہانت کو اخلاق، قانون ،انسانی نگرانی اور واضح حدود کے ساتھ استعمال کیا تو یہی ٹیکنالوجی بیماریوں کے علاج ،سائنسی تحقیق، تعلیم اور انسانی ترقی میں ایک عظیم معاون بن سکتی ہے۔
لیکن اگر ہم نے سہولت کی خاطر فیصلہ سازی کی اپنی ذمہ داری بھی مشین کے حوالے کر دی تو خطرہ کسی ایک دن اچانک ہمارے دروازے پر نہیں ائے گا۔ وہ شاید بہت خاموشی سے ہماری روزمرہ زندگی میں داخل ہو چکا ہوگا۔
اور پھر ہمیں یہ سوچنے کا موقع بھی شاید نہ ملے کہ ہم نے مشین کو انسان کی مدد کے لیے بنایا تھا یا اپنی ذمہ داری سے بچنے کے لیے
مصنوعی ذہانت کا مستقبل ابھی لکھا نہیں گیا قلم ابھی انسان کے ہاتھ میں ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ ہم اس قلم سے مستقبل کیسا لکھتے ہیں۔

More posts