Baaghi TV

امریکہ کا درجنوں بین الاقوامی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ کے اداروں سے دستبرداری کا اعلان

trump

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم سرکاری یادداشت (میمورنڈم) جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکہ ان بین الاقوامی تنظیموں، فورمز، کنونشنز اور اقوامِ متحدہ کے متعدد اداروں سے دستبردار ہو جائے گا جو امریکی قومی مفادات کے خلاف سمجھے گئے ہیں۔ یہ فیصلہ وزیرِ خارجہ کی جانب سے کی گئی جامع جانچ پڑتال اور کابینہ سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔

صدر کی جانب سے جاری یادداشت کے مطابق، 4 فروری 2025 کو جاری ہونے والے ایگزیکٹو آرڈر 14199 کے تحت وزیرِ خارجہ کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ان تمام بین الاقوامی بین الحکومتی تنظیموں، معاہدوں اور کنونشنز کا تفصیلی جائزہ لیں جن میں امریکہ رکن ہے یا جنہیں کسی بھی نوعیت کی مالی یا انتظامی معاونت فراہم کرتا ہے۔ اس جائزے کا مقصد یہ طے کرنا تھا کہ کون سی تنظیمیں اور معاہدے امریکہ کے مفادات سے متصادم ہیں۔یادداشت میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ خارجہ نے اپنی رپورٹ صدر کو پیش کر دی، جس پر صدر نے کابینہ کے ارکان سے تفصیلی مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ بعض تنظیموں میں امریکہ کی رکنیت برقرار رکھنا یا ان کی مالی معاونت جاری رکھنا قومی مفادات کے خلاف ہے۔ اسی بنیاد پر صدر نے فوری طور پر دستبرداری کے اقدامات کی ہدایت جاری کی۔

صدر ٹرمپ نے تمام ایگزیکٹو محکموں اور وفاقی اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ جلد از جلد ان تنظیموں سے امریکہ کی دستبرداری کے عملی اقدامات مکمل کریں۔ اقوامِ متحدہ کے اداروں کے حوالے سے واضح کیا گیا ہے کہ قانون کی اجازت کی حد تک ان اداروں میں شرکت اور فنڈنگ بند کر دی جائے گی۔

فیصلے کے تحت امریکہ متعدد غیر اقوامِ متحدہ تنظیموں سے بھی علیحدگی اختیار کرے گا، جن میں ماحولیاتی تبدیلی، توانائی، جمہوریت، سائبر سیکیورٹی، ہجرت، معدنیات، ثقافت اور انسانی حقوق سے متعلق عالمی ادارے شامل ہیں۔ ان میں انٹرگورنمنٹل پینل آن کلائمٹ چینج (IPCC)، انٹرنیشنل رینیوبل انرجی ایجنسی، انٹرنیشنل سولر الائنس، انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر اور فریڈم آن لائن کولیشن جیسے نمایاں فورمز بھی شامل ہیں۔
یادداشت کے مطابق امریکہ اقوامِ متحدہ کے درجنوں ذیلی اداروں اور پروگرامز سے بھی دستبردار ہوگا، جن میں اقوامِ متحدہ کا محکمہ برائے معاشی و سماجی امور، اقوامِ متحدہ کا جمہوریت فنڈ، صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق ادارہ (UN Women)، اقوامِ متحدہ کا فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی، اقوامِ متحدہ کا آبادی فنڈ اور اقوامِ متحدہ یونیورسٹی شامل ہیں۔

یادداشت میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ امریکہ اپنی خارجہ پالیسی میں قومی خودمختاری، معاشی مفادات اور داخلی ترجیحات کو اولین حیثیت دیتا رہے گا۔ صدر کا کہنا ہے کہ جن عالمی اداروں کی سرگرمیاں یا پالیسیاں امریکہ کے مفادات سے ہم آہنگ نہیں، ان میں شمولیت یا فنڈنگ کا کوئی جواز نہیں بنتا۔یادداشت میں واضح کیا گیا ہے کہ اس فیصلے سے کسی بھی وفاقی ادارے کے قانونی اختیارات متاثر نہیں ہوں گے اور اس پر عمل درآمد امریکی قوانین اور دستیاب بجٹ کے مطابق کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ اس یادداشت سے کسی فرد یا ادارے کو امریکہ کے خلاف قانونی حق حاصل نہیں ہوگا۔صدر نے وزیرِ خارجہ کو ہدایت دی ہے کہ اس یادداشت کو فیڈرل رجسٹر میں شائع کیا جائے تاکہ یہ فیصلہ باضابطہ طور پر سرکاری ریکارڈ کا حصہ بن سکے۔

More posts