ورلڈ بینک نے ایران میں جاری جنگ کے عالمی معیشت پر ممکنہ خطرناک اثرات سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں مہنگائی، بے روزگاری اور غذائی قلت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ورلڈ بینک کے ڈائریکٹر جنرل پاسکل ڈونوہو نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع عالمی سطح پر معاشی دباؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے، خاص طور پر ایسے ممالک میں جو پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے باعث سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے، جس سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا اور عام آدمی کی زندگی مزید مشکل ہو جائے گی۔
پاسکل ڈونوہو کے مطابق کئی ممالک پہلے ہی مالی دباؤ اور معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، اور اس جنگ کے اثرات ان مسائل کو مزید سنگین بنا سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ورلڈ بینک اس صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے اور متاثرہ ممالک کی مدد کے لیے مختلف اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں جنگ کے قلیل مدتی اثرات سے نکالا جا سکے۔
ڈائریکٹر جنرل کے مطابق 12 سے 17 اپریل کے دوران واشنگٹن میں ورلڈ بینک کے اہم اجلاس منعقد ہوں گے، جن میں موجودہ صورتحال اور مستقبل کے چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ادارہ اس وقت دستیاب مالی وسائل کا اندازہ لگا رہا ہے اور یہ دیکھا جا رہا ہے کہ کن ممالک کو فوری مدد فراہم کی جا سکتی ہے تاکہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والے معاشی بحران کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
ایران جنگ کے عالمی معیشت پر خطرناک اثرات، ورلڈ بینک کی وارننگ
