Baaghi TV


30 اگست کو نکاح تھا، بیٹا شادی کے خواب سجا رہا تھا، مقتول میر رضا کے والد کا دردناک بیان

‎کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر سے ملنے والی نوجوان میر رضا علی کی لاش کے معاملے میں مقتول کے والد نے دل دہلا دینے والی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے بیٹے کا 30 اگست کو نکاح ہونا تھا اور وہ اپنی نئی زندگی کے آغاز کے لیے بے حد خوش اور پرجوش تھا۔ اچانک پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے نے پورے خاندان کو غم میں مبتلا کر دیا ہے، جبکہ پولیس مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔
‎مقتول کے والد نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میر رضا علی 28 جولائی کی صبح کسی ضروری کام کے سلسلے میں گھر سے نکلے تھے، تاہم شام تک واپس نہ آنے اور موبائل فون مسلسل بند آنے پر اہل خانہ کو تشویش ہوئی۔ اسی روز قریبی تھانے میں ان کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروا دی گئی تاکہ تلاش کا عمل فوری طور پر شروع کیا جا سکے۔
‎انہوں نے بتایا کہ اہل خانہ نے آن لائن ٹیکسی سروس کی مدد سے میر رضا کی آخری لوکیشن معلوم کی، جس کے بعد وہ اس مقام پر پہنچے۔ اسی دوران گلستانِ جوہر پولیس کے اہلکار بھی وہاں موجود تھے۔ پولیس نے اہل خانہ کو بتایا کہ صبح ایک ناقابل شناخت لاش ملی تھی، تاہم جب کپڑوں کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ میر رضا علی کے ہی تھے۔
‎والد کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے نے کبھی کسی قسم کی کاروباری یا مالی پریشانی کا ذکر نہیں کیا تھا اور نہ ہی کسی خطرے یا دھمکی کے بارے میں گھر والوں کو آگاہ کیا تھا۔ ان کے مطابق میر رضا اپنی شادی کی تیاریوں میں مصروف تھے اور مستقبل کے حوالے سے بہت پُرامید تھے، اس لیے اہل خانہ کے لیے یہ سانحہ ناقابل یقین ہے۔
‎واضح رہے کہ میر رضا علی کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس کے رہائشی تھے، جبکہ ان کی لاش گلستانِ جوہر سے برآمد ہوئی۔ واقعے کے بعد پولیس نے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے تاکہ قتل کی وجوہات اور اس میں ملوث افراد کا سراغ لگایا جا سکے۔
‎تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ فرانزک شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیج، موبائل فون ریکارڈ اور دیگر شواہد کی مدد سے تحقیقات کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ تمام ممکنہ پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد ہی واقعے کی اصل وجہ اور ذمہ داروں کے بارے میں حتمی معلومات فراہم کی جائیں گی۔

More posts