Baaghi TV

اسلام آباد، امریکا ایران امن مذاکرات پر دنیا کی نظریں

دنیا بھر میں بے چینی کے ساتھ اس بات کا انتظار کیا جا رہا ہے کہ آیا پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے امریکا اور ایران کے درمیان اہم امن مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچ پائیں گے یا نہیں۔ یہ مذاکرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کے کروڑوں افراد کی زندگیوں بلکہ عالمی معیشت، خصوصاً تیل کی منڈیوں کے مستقبل کا بھی تعین کریں گے۔

اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی وفود کی آمد کے پیش نظر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ حکومت نے دو روزہ عام تعطیل کا اعلان کیا ہے جس کے باعث شہر کی سڑکیں سنسان دکھائی دے رہی ہیں۔ یہ مذاکرات ایران،امریکا جنگ کے آغاز کے بعد پہلی براہِ راست بات چیت ہوں گے۔دو ہفتوں پر مشتمل ایک نازک جنگ بندی فی الحال برقرار ہے، جس نے ان مذاکرات کی راہ ہموار کی۔ تاہم لبنان میں اسرائیلی حملے اور جنگ بندی کے دائرہ کار پر اختلافات اس عمل کو سبوتاژ کر سکتے ہیں۔امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، ایران نے باضابطہ طور پر اپنے وفد کا اعلان نہیں کیا، تاہم اطلاعات کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکروفد کی قیادت کر سکتے ہیں۔

مذاکرات کے ایجنڈے پر دونوں ممالک کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں، امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے 10 نکاتی منصوبے کو قابلِ غور قرار دیا، تاہم ایران کی جانب سے پیش کردہ بعض شرائط جیسے آبنائے ہرمز پر کنٹرول، جنگی ہرجانے اور تمام پابندیوں کا خاتمہ،امریکا کے لیے ناقابل قبول سمجھی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب امریکا نے 15 نکاتی منصوبہ تیار کیا ہے، جس میں ایران سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی ضمانت، افزودہ یورینیم کی حوالگی، دفاعی صلاحیتوں میں کمی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے جیسے مطالبات شامل ہیں۔

لبنان اس وقت تنازع کا سب سے حساس پہلو بن چکا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی میں لبنان اور حزب اللہ شامل ہیں، جبکہ امریکا اور اسرائیل اس سے انکار کرتے ہیں۔جنگ بندی کے چند گھنٹوں بعد ہی اسرائیل نے لبنان میں شدید فضائی حملے کیے، جن میں 300 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ اس صورتحال نے عالمی سطح پر شدید ردعمل پیدا کیا اور مذاکرات کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا۔

دوسری جانب اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز تاحال مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی۔ ایران کی جانب سے محدود آمدورفت کے باعث عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے، جبکہ سینکڑوں جہاز اب بھی خلیج میں پھنسے ہوئے ہیں۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے اپنی یقین دہانیاں پوری نہ کیں تو جنگ بندی ختم ہو سکتی ہے۔

اگرچہ امریکا ان مذاکرات کے حوالے سے پرامید دکھائی دیتا ہے، تاہم ایران کا مؤقف اس کے برعکس ہے، جہاں سرکاری بیانات میں جنگ کو اپنی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ ملاقات ممکنہ طور پر ایک طویل اور پیچیدہ مذاکراتی سلسلے کا آغاز ہے، اور یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا صرف ایک ویک اینڈ میں دونوں ممالک اپنے اختلافات ختم کر سکیں گے یا نہیں۔اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات عالمی سیاست کا رخ بدل سکتے ہیں۔ اگر کامیاب ہوئے تو مشرقِ وسطیٰ میں امن کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں، بصورت دیگر ایک بار پھر جنگ کے بادل منڈلا سکتے ہیں۔

More posts