جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سوک یول پر قانون کی راہ میں رکاوٹ بننے کا الزام ثابت ہو گیا، جس کے بعد عدالت نے انہیں پانچ برس قید کی سزا سنا دی۔
یون سوک یول کے خلاف وارنٹِ گرفتاری پر عملدرآمد میں رکاوٹ ڈالنے کا مقدمہ درج تھا۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال مارشل لا نافذ کرنے کی ناکام کوشش کے بعد جب عدالت نے ان کی گرفتاری کا حکم دیا تو پولیس کو صدر ہاؤس میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔
عدالتی احکامات کے باوجود پولیس کئی دن تک سابق صدر کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی تھی، جسے عدالت نے قانون کی عملداری میں سنگین رکاوٹ قرار دیا۔
جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سوک یول کو قانون کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے پر 5 سال قید کی سزا
