یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں جاری تنازع کے باعث امریکا کی توجہ یوکرین سے ہٹ رہی ہے، جس سے جنگی محاذ پر مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔
امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں زیلنسکی نے کہا کہ اگر واشنگٹن کی توجہ مسلسل مشرقِ وسطیٰ کی جانب منتقل ہوتی رہی تو یوکرین کو ہتھیاروں اور دفاعی وسائل کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو جنگ کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران میں طویل جنگ روس کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے، خاص طور پر اس کی تیل پر مبنی معیشت کو تقویت مل رہی ہے۔ زیلنسکی نے الزام عائد کیا کہ روس ایران کی حمایت کے ساتھ ساتھ اسے سیٹلائٹ تصاویر اور جنگی تجربات بھی فراہم کر رہا ہے۔
ان کے مطابق روس ایران کے ساتھ وہی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے جو اس نے یوکرین میں اپنائی تھی، جبکہ ممکنہ طور پر امریکی اور اتحادی اڈوں سے متعلق معلومات بھی شیئر کی جا رہی ہیں۔
زیلنسکی کا کہنا تھا کہ یوکرین نے مشرقِ وسطیٰ کے رہنماؤں کو اس حوالے سے اہم معلومات فراہم کر دی ہیں تاکہ صورتحال کے اثرات سے نمٹا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ ایران کے تنازع کا حل جلد از جلد سفارتی ذرائع سے نکالا جانا چاہیے، کیونکہ اگر امریکا کی توجہ مشرقِ وسطیٰ پر مرکوز رہی اور روس پر پابندیوں میں نرمی آئی تو یہ یوکرین کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
ایران تنازع سے یوکرین متاثر ہونے کا خدشہ: زیلنسکی
