بھارت کے شہر ممبئی میں بریانی کھانے کے بعد تربوز استعمال کرنے سے جاں بحق ہونے والے ایک ہی خاندان کے 4 افراد کی موت کی اصل وجہ سامنے آگئی ہے، جس نے اس افسوسناک واقعے کو مزید پراسرار بنا دیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ ماہ 45 سالہ عبداللہ عبدالقادر، ان کی 35 سالہ اہلیہ نسرین، 16 سالہ بیٹی عائشہ اور 13 سالہ زینب نے ہفتے کی شب دیگر رشتہ داروں کے ساتھ بریانی کھائی تھی۔ بعد ازاں رات گئے تقریباً ایک بجے انہوں نے تربوز کھایا، جس کے چند گھنٹوں بعد ان کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی۔رپورٹس کے مطابق صبح تقریباً 5 بجے چاروں افراد کو شدید قے اور طبی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتدائی طور پر مقامی ڈاکٹر نے طبی امداد فراہم کی، تاہم حالت بگڑنے پر انہیں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دورانِ علاج دم توڑ گئے۔
ابتدائی تحقیقات میں واقعے کو فوڈ پوائزننگ قرار دیا جا رہا تھا، تاہم اب فرانزک رپورٹ میں حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق پوسٹ مارٹم اور لیبارٹری تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ خاندان کے افراد کی موت عام خوراکی زہریلے اثرات سے نہیں بلکہ چوہے مار زہر کے باعث ہوئی۔فرانزک ماہرین نے لاشوں اور استعمال کیے گئے تربوز کے نمونوں میں “زنک فاسفائٹ” نامی زہریلا کیمیکل پایا، جو عام طور پر چوہے مار ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق متوفیوں کے اندرونی اعضا میں سبز رنگت بھی دیکھی گئی، جو زہر خورانی کی ممکنہ علامت سمجھی جاتی ہے۔تحقیقاتی ادارے اب اس پہلو کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ خطرناک کیمیکل حادثاتی طور پر تربوز میں شامل ہوا یا کسی نے جان بوجھ کر زہر ملایا تھا۔ پولیس نے واقعے کی مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ فرانزک ماہرین مختلف شواہد کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔
اس افسوسناک واقعے نے خوراک کی حفاظت اور زہریلے کیمیکلز کے غیر محتاط استعمال سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
