سپریم کورٹ کا خواتین کے وراثتی حقوق سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا
جسٹس شاہد بلال حسن نے 13 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا ہے،سپریم کورٹ نے 71 سال بعد بہنوں اور والدہ کو جائیداد میں حصہ دینے کا حکم دے دیا،سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے،فیصلے میں کہا گیاکہ خواتین کے وراثتی حقوق کا تحفظ صرف ریاست کی ذمہ داری نہیں، سول سوسائٹی، علما، ریونیو حکام اور قانونی ماہرین ان حقوق سے انحراف کو روکیں، وراثت خواتین کا شرعی و قانونی حق ہے، خواتین کو وراثت سے محروم رکھنا غیر آئینی اور غیر اسلامی ہے، جعلی ہبہ، فراڈ اور خاندانی دباؤ سے خواتین کے وراثتی حقوق ختم نہیں ہوسکتے، 1955 میں والد کے انتقال کے بعد دو بھائیوں نے وراثتی جائیداد اپنے نام منتقل کرائی، زبانی ہبہ کو بنیاد بنا کر والدہ اور بہنوں کو جائیداد سے محروم کیا گیا،ٹرائل کورٹ نے ہبہ کے ثبوت کا درست جائزہ نہیں لیا، ہائی کورٹ کے مطابق زبانی ہبہ کو دہائیوں تک چیلنج نہیں کیا گیا، ہبہ ثابت کرنا فائدہ اٹھانے والوں کی ذمہ داری تھی،ریکارڈ کے مطابق کئی برس تک والدہ اور بہنوں کو آمدن میں حصہ ملتا رہا، سپریم کورٹ کا واضح مؤقف کہ خواتین کو وراثتی حق سے محروم رکھنا قابل قبول نہیں.
