Baaghi TV

آنکھوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے والی غذائیں

آنکھیں قدرت کا انمول تحفہ ہیں ہم عام طور پر آنکھوں کی حفاظت کے لیے دھوپ کا چشمہ خریدتے ہیں جو دن کے وقت سورج کی تیز روشنی میں آنکھوں کو سورج کی تیز شعاؤں سے بچاتا ہے وہاں آپ کو ایک فیشن سٹائل بھی دیتا ہے اور دن کے اختتام پر آپ کی آنکھوں کو تھکنے سے بچاتا ہے مگر دھوپ کے چشمے کے ساتھ ساتھ آنکھوں کو طاقتور کرنے والے کھانے اور ڈرنکس بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہیں جن کو ہمیں اپنی روزانہ کی خوراک میں شامل کرنا چاہیے جوہماری نظر کو تندرست رکھتے ہیں

جگر کی حفاظت کے چند ضامن اصول


بیٹا کیروٹین سے بھر پور سبزیاں:
بیٹا کیروٹین سُرخ اور مالٹا رنگ کا پیگمینٹ ہے جو مختلف سبزیوں اور پھلوں میں پایا جاتا ہے یہ پیگمینٹ ان سبزیوں اور پھلوں کو گہرے رنگ عطا کرتا ہے اور بیٹا کیروٹین کی حامل سبزیاں آنکھوں کی صحت کے لیے انتہائی مُفید ہیں اور ان سبزیوں میں سر فہرست گاجر ہے جو وٹامن اے اور بیٹا کیروٹین سے بھرپور ہوتی ہے وٹامن اے آنکھوں کی صحت کے لیے انتہائی مُفید ہے جو آنکھ کو تیز روشنی جذب کر لینے کی قُوت عطا کرتا ہے یٹا کیروٹین کی حامل دیگر سبزیوں میں حلوہ کدو شکر قندی وغیرہ بھی آنکھوں کی صحت کے لیے انتہائی اہم سبزیاں ہیں
پانی:
سب جانتے ہیں کہ پانی زندگی ہے اور پانی آنکھوں کی صحت کے ساتھ ساتھ ہمارے سارے جسم کی صحت کے لیے انتہائی اہم ہے در حقیقت ہمارے جسم کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ پانی پر مشتعمل ہے اس لیے آنکھوں کے ساتھ ساتھ سارے جسم کو توانا کرنے کے لیے دن میں کم از کم بارہ گلاس پانی پینا چاہیئے اور اللہ کا شُکر ادا کریں کہ اُس نے ہمیں یہ عظیم نعمت عطا کی
گہرے رنگوں والی سبزیاں:
گرمیوں میں جب سُورج اپنی آب و تاب سے چمکتا ہے اور ہر جیز کو جلا کے رکھ دیتا ہے تو ایسی تیز دھُوپ میں درختوں کےپتےکیوں نہیں خُشک ہو کر گر جاتے اور کیوں سبز رہتے ہیں؟ اس کی وجہ ان میں موجود دو حیاتی کیمیا لوٹین اور زیازینتھن ہے اور یہ دونوں کیمیا ہماری آنکھوں میں بھی موجود ہوتے ہیں جو جہاں آنکھوں کو بہت سی بیماریوں سے بچاتے ہیں وہاں دھُوپ میں شامل آنکھوں کے لیے نقصان دہ شعاعوں (بلو لائٹ وغیرہ) کو آنکھوں کے رٹینا تک پہنچنے سے روکتے ہیں اور قُدرتی سن بلاک کا کام کرتے ہیں گہرے رنگ والی سبزیاں لوٹین اور زیازینتھن سے بھرپور ہوتی ہیں جن میں سر فہرست پالک ہے ساگ ہے کیل ہے بند گوبھی بروکلی وغیرہ شامل ہیں

نظر بد کیاہے اور یہ انسان کے جسم پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے ؟


انڈے:
انڈے لوٹین اور زیازینتھن حاصل کرنے کا ایک انتہائی بہترین ذریعہ ہیں جو آنکھوں پر بڑھاپے سے پیدا ہونے والے اثرات کو اثر نہیں کرنے دیتے
اومیگا تھری:
اومیگا تھری فیٹی ایسڈ اناج ڈرائی فروٹس اور مچھلی کے گوشت وغیرہ میں پایا جاتا ہےاور آنکھوں کے لیے اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ آنکھوں کو خُشکی سے بچاتا ہے ایک تحقیق کے مُطابق بہت زیادہ کمپیوٹر اور موبائل استعمال کرنے والے افراد جو اومیگا تھری استعمال کرتے ہیں اُن میں کمپیوٹر ویژن سینڈرم اور ڈرائی آئیز کی بیماریاں پیدا ہونے کے چانسز بہت کم ہوجاتے ہیں اور اُن کی آنکھیں کام کے دوران تھکتی نہیں ہیں اور توانا رہتی ہیں اومیگا تھری کے حامل اناجوں میں السی تخم بالنگا ہیمپ سیڈز پوپی سیڈز حلوہ کدو کے بیج اور سُورج مُکھی کے بیج وغیرہ اور ڈرائی فروٹس میں اخروٹ بادام کاجو اور ہیزلنٹس وغیرہ شامل ہیں اومیگا تھری کا سب سے اچھا ذریعہ چربی والی مچھلی اور سمندری کھانے جیسے جھینگے وغیرہ ہیں گائے کا گوشت زنک سے بھرپور ہوتاہے زنک آنکھوں پر عمر کے بڑھنے سے پیدا ہونے والے اثرات کو ظاہر ہونے سے روکتا ہے اورآنکھوں کے پٹھوں کو مضبوط کرتا ہےآنکھوں میں بذات خود بھی زنک کی ایک بڑی مقدار شامل ہوتی ہے جو خاص طور پر آنکھوں کے رٹینا اور رٹینا کے اردگرد پھیلے ہُوئے ٹشوز میں شامل ہوتا ہے
سٹرٹس فروٹس:
سٹرس فروٹس وٹامن سی سے بھرپور ہوتے ہیں اور سٹرس فروٹس میں شامل وٹامن سی اینٹی آکسیڈینٹ خوبیوں کا حامل ہوتا ہے جو آنکھوں کی صحت کے لیے انتہائی مُفید ہے اور آج کل تو ان پھلوں کا موسم بھی ہے لہذا جی بھر کر کینو مالٹا مسمی چکوترہ وغیرہ کھائیں

More posts