پاکستان کی اعلیٰ ترین اقتصادی فیصلہ ساز کمیٹی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے ایک اہم اور متنازعہ فیصلے میں استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی منظوری دے دی ہے، جس پر ملک کی آٹو انڈسٹری نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے "تباہ کن” قرار دیا ہے۔
یہ فیصلہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ایک آن لائن اجلاس میں کیا گیا، جو اس وقت نیویارک میں موجود ہیں۔ ابتدائی طور پر صرف پانچ سال پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دی گئی ہے، تاہم 30 جون 2026 کے بعد اس عمر کی حد کو ختم کر دیا جائے گا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آئی ایم ایف کا وفد پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے دوسرے جائزے کے لیے ملک کا دورہ کرنے والا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارہ پاکستان سے تجارتی پابندیاں نرم کرنے اور استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر عائد پابندیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ای سی سی نے "کمرشل بنیادوں پر استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد” کے لیے 2022 کے امپورٹ پالیسی آرڈر میں ترمیم کی منظوری دی ہے۔یہ اجازت ماحولیاتی تحفظ اور حفاظتی معیار کی سخت پابندیوں سے مشروط ہوگی۔پانچ سال سے کم عمر گاڑیوں کی درآمد پر موجودہ کسٹمز ڈیوٹی کے علاوہ 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی جائے گی۔یہ ریگولیٹری ڈیوٹی جون 2026 تک برقرار رہے گی اور اس کے بعد ہر سال 10 فیصد کی کمی کی جائے گی، یہاں تک کہ مالی سال 2029-30 میں یہ صفر ہو جائے گی۔
پاکستان کی مقامی آٹو صنعت جن میں ٹويوٹا، ہونڈا، سوزوکی، ہنڈائی، کیا موٹرز، اور چانگان شامل ہیں نے اس فیصلے کو صنعت دشمن قرار دیا ہے۔پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PAMA) کے ڈائریکٹر جنرل عبدالوحید خان نے عرب نیوز سے گفتگو میں کہا “یہ درآمدی پالیسی میں ایک بنیادی تبدیلی ہے۔ 40 فیصد اضافی ٹیرف کے باوجود، یہ فیصلہ مارکیٹ کو استعمال شدہ گاڑیوں سے بھر دے گا اور مقامی مینوفیکچرنگ کو تباہ کر دے گا۔” ملک میں ڈالر کی قلت اور انوینٹری کے مسائل کے باعث گزشتہ چند سال مقامی کار ساز اداروں کے لیے انتہائی مشکل رہے۔ 2022 میں 226,433 یونٹس کی پیداوار کے مقابلے میں 2025 میں پیداوار 51 فیصد کم ہو کر 111,402 یونٹس پر آ گئی ہے۔
پاکستان آٹوموٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PAAPAM) نے بھی اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے “یہ فیصلہ ایک ایسی انڈسٹری پر تباہ کن اثر ڈالے گا جو 3 لاکھ افراد کو براہ راست اور 18 لاکھ سے زائد پاکستانیوں کو بلا واسطہ روزگار فراہم کر رہی ہے،” ، ملک میں 1,200 سے زائد کمپنیاں اسٹیل، پلاسٹک، ربڑ، تانبا، ایلومینیم اور دیگر پرزے بناتی ہیں جو 13 مقامی کار اسمبلرز کو فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “یہ فیصلہ الیکٹرک گاڑیوں کی لوکل اسمبلی اور سرمایہ کاری کے عمل کو بھی نقصان پہنچائے گا۔”
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے تجزیہ کار شنکر تلریجا کا کہنا ہے “فی الوقت کم قیمت یا ہیچ بیک گاڑیاں زیادہ درآمد ہو رہی ہیں، لیکن اب یہ تعداد بڑھ سکتی ہے، خاص طور پر جب ریگولیٹری ڈیوٹی ہر سال کم ہوتی جائے گی۔”انہوں نے خبردار کیا کہ “پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر جو کہ گزشتہ ہفتے 14 ارب ڈالر تھے، استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد سے مزید دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔”تاہم، وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ “چونکہ حکومت نے کچھ غیر ٹیرف رکاوٹیں اور معیار قائم کیے ہیں، اس سے کچھ حد تک مقامی انڈسٹری کو ریلیف مل سکتا ہے۔”لیکن عبدالوحید خان کا کہنا ہے کہ “ایک گاڑی کی درآمد کا مطلب ہے ایک گاڑی کی مقامی سطح پر پیداوار کا نقصان۔ یہ براہ راست مقابلہ ہے۔”
استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کا یہ فیصلہ بظاہر آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرنے کی ایک کوشش ہے، لیکن اس کے نتیجے میں مقامی کار سازی اور پارٹس انڈسٹری کو شدید نقصان کا اندیشہ ہے۔روزگار کے مواقع متاثر ہو سکتے ہیں۔زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔صارفین کو قلیل مدتی فائدہ، لیکن طویل المدتی نقصان ہو سکتا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت آنے والے دنوں میں کیا حفاظتی اقدامات کرتی ہے تاکہ ایک طرف آئی ایم ایف کی شرائط پوری ہوں اور دوسری طرف ملک کی صنعت، روزگار، اور معیشت کو بچایا جا سکے۔
