Baaghi TV


کراچی میں شدید گرمی، 12 افراد جاں بحق

heatwave

‎کراچی میں قیامت خیز گرمی کے باعث شہر کے مختلف علاقوں سے کم از کم 12 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جس نے شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ریسکیو اداروں ایدھی فاؤنڈیشن اور چھیپا ویلفیئر ایسوسی ایشن کے مطابق یہ اموات گرمی کی شدت، منشیات کے زیادہ استعمال اور دوران علاج حالت بگڑنے کے باعث ہوئیں۔
‎رپورٹس کے مطابق شہر کا درجہ حرارت 44.1 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو 2018 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ شدید گرمی کے باعث شہریوں کی بڑی تعداد متاثر ہو رہی ہے، خاص طور پر وہ افراد جو کھلے مقامات پر کام کرتے ہیں۔
‎لاشیں منگھوپیر، گلشنِ حدید، ڈیفنس فیز 8، بوٹ بیسن، لیاقت آباد، سپر ہائی وے، سرجانی ٹاؤن، موری پور روڈ، بلدیہ ٹاؤن اور نارتھ کراچی سمیت مختلف علاقوں سے ملیں، جنہیں عباسی شہید اسپتال، سول اسپتال کراچی اور جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا۔ تاہم پولیس سرجن کے مطابق تاحال کسی لاش کا باضابطہ پوسٹ مارٹم نہیں کیا گیا۔
‎وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام کو ہدایت دی ہے کہ متاثرہ افراد کی شناخت کر کے ان کے اہل خانہ تک رسائی یقینی بنائی جائے۔
‎دوسری جانب شہریوں نے شدید گرمی کے ساتھ بجلی کی طویل بندش اور پانی کی قلت کی شکایات بھی کی ہیں۔ بعض علاقوں میں 16 گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ رپورٹ ہوئی، جس نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔
‎محکمہ موسمیات نے آئندہ دنوں میں درجہ حرارت میں کچھ کمی کی پیشگوئی کی ہے، تاہم شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، پانی کا زیادہ استعمال کرنے اور غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

More posts