ضلع چمن میں سوشل میڈیا کے ذریعے ریاستی اداروں اور حکومت پاکستان کے خلاف نفرت انگیز اور اشتعال انگیز مواد پھیلانے کے الزام میں پولیس نے ایک شخص کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔
پولیس کے مطابق تھانہ سٹی چمن میں مقدمہ نمبر 129/25 درج کیا گیا ہے، جو پولیس فارم نمبر 24-5(1) کے تحت تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 504، 505، 153، 506 اور الیکٹرانک جرائم کی روک تھام ایکٹ (PECA) 2016 کی دفعات 11 اور 22 کے تحت درج کیا گیا ہے۔ابتدائی اطلاعی رپورٹ کے مطابق، تھانہ سٹی چمن کے ایس آئی و ایس ایچ او محمد ولی کاکڑ نے سرکار کی جانب سے مدعیت کرتے ہوئے بتایا کہ مورخہ 23 دسمبر 2025 کو تقریباً 07:50 شام وہ دفتر میں موجود تھے اور سوشل میڈیا استعمال کر رہے تھے، اسی دوران انہیں ٹک ٹاک پر ایک اکاؤنٹ Haji Nanak @haji nanak کی جانب سے اپلوڈ کی گئی ویڈیو نظر آئی۔پولیس کے مطابق مذکورہ ویڈیو پشتو زبان میں تھی، جس میں ملزم نے حکومت پاکستان، ریاستی اداروں اور ان کے سربراہان کے خلاف نازیبا اور توہین آمیز زبان استعمال کی۔کہا گیا کہ ” ہم اور آپ لوگوں چاہیے کہ یہ پولیو کے قطرے بچوں کو نہ پلائے یہ امریکی لوگوں کا پیشاپ ہے یہ اپنے بچوں کو مت پلاو ” ویڈیو میں پولیو کے قطرے پلانے کے خلاف عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی اور اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے عوام میں نفرت اور بداعتمادی پھیلانے کی کوشش کی گئی۔ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ ویڈیو میں نہ صرف ریاستی اداروں پر سنگین اور بے بنیاد الزامات لگائے گئے بلکہ معاشرتی اقدار اور مذہبی جذبات کو بھی مجروح کیا گیا، جس سے عوامی امن و امان کو خطرہ لاحق ہوسکتا تھا۔پولیس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ملزم کے اس عمل سے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور قومی پولیو مہم کے خلاف منفی پروپیگنڈا پھیلایا گیا، جو قابلِ تعزیر جرم ہے۔
مقدمہ درج کرنے کے بعد اس کیس کی تفتیش اے ایس آئی غزنی کے سپرد کردی گئی ہے، جبکہ اعلیٰ پولیس حکام کو بھی اس حوالے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور شواہد کی روشنی میں ملزم کے خلاف سخت قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے اشتعال انگیز اور گمراہ کن مواد سے ہوشیار رہیں اور قانون کو ہاتھ میں لینے کے بجائے ایسے عناصر کی نشاندہی متعلقہ اداروں کو کریں۔
