Baaghi TV

"لفظوں کی جادوگری یا ضمیروں کا قتل”،تحریر: قمرشہزاد مغل

شعر!
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام

دنیا بدل گئی، ہتھیار بدل گئے، مگر طاقتور کی انا اور بدمعاشی کا انداز نہیں بدلا۔ آج ہم جس دور میں جی رہے ہیں، وہاں گولی سے زیادہ خطرناک بیانیہ بن چکا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب طاقت کا نشہ حد سے بڑھ جائے تو وہ لفظوں کے مفاہیم بدلنے کی صلاحیت حاصل کر لیتا ہے۔ آج کے جدید دور میں، جہاں انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کے راگ الاپے جاتے ہیں، وہاں میڈیا کی ایک باریک واردات کے ذریعے پوری دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا رہی ہے۔ وینزویلا کے صدر کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے، کیونکہ جسے دنیا بھر کا میڈیا گرفتاری پکار رہا ہے، وہ درحقیقت ایک آزاد ریاست کے سربراہ کا مبینہ اغوا ہے۔ چشم کشا حقیقت تو یہ ہے کہ کسی بھی بین الاقوامی عدالت نے، خواہ وہ ہیگ کی عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) ہو یا عالمی فوجداری عدالت (ICC)، مادورو کے خلاف نہ تو کوئی فیصلہ سنایا اور نہ ہی ان کی گرفتاری کا کوئی وارنٹ جاری کیا تھا۔ یہ کارروائی کسی عالمی قانون کے تحت نہیں بلکہ ایک عالمی بدمعاش کی اپنی عدالتوں میں طے شدہ ایجنڈے کے تحت عمل میں لائی گئی۔ کیا اب طاقتور ممالک کو یہ اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ وہ جس ملک کا چاہیں دروازہ توڑیں اور وہاں کے منتخب سربراہ کو اٹھا کر اپنے ساتھ لے جائیں؟ اگر یہی قانون ہے، تو پھر عالمی اداروں اور عدالتوں کی حیثیت ایک رسمی تماشے سے زیادہ کچھ نہیں۔ لفظوں کا یہ ہیر پھیر دراصل انسانی ضمیروں کو تھپکیاں دے کر سُلانے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔ جب خبر رساں ادارے اغوا کو گرفتاری کا نام دیتے ہیں، تو وہ غیر محسوس طریقے سے اس غیر قانونی فعل کو قانونی جواز فراہم کر رہے ہوتے ہیں۔ یاد رکھیے جب تک ہم اس ننگی جارحیت کو اس کے اصل نام اغوا سے نہیں پکاریں گے، ہم اپنی ذہنی غلامی کے طوق کو قانون کی حکمرانی کا زیور سمجھتے رہیں گے۔ آج وینزویلا کے صدر کی باری ہے، کل کسی اور ریاست کی خودمختاری کا جنازہ نکلے گا۔ کیا ہم محض تماشائی بنے رہیں گے؟ یا ہم میڈیا کے اس خود ساختہ بیانیے کو رَد کر کے ظالم کو اس کے اصل نام سے پکارنے کی ہمت کریں گے؟ اب وقت آ گیا ہے کہ اس منافقت کو بے نقاب کیا جائے اور دنیا کو بتایا جائے کہ یہ قانون کی بالادستی نہیں، بلکہ جنگل کا وہ قانون ہے جہاں صرف طاقتور کی مرضی ہی انصاف کہلاتی ہے۔ اگر آج انسانیت خاموش رہی، تو تاریخ اس گرفتاری کو نہیں بلکہ اس خاموشی کو سب سے بڑا جرم قرار دے گی۔ اپنے شعور کو بیدار کیجیے، خبر نہیں، خبر کے پیچھے چھپی سازش کو پڑھیے، اگر ہم نے آج اس باریک واردات کو بے نقاب نہ کیا، تو تاریخ ہمیں ایک ایسے دور کے باسی لکھے گی جنہوں نے زنجیروں کو زیور اور قاتلوں کو مسیحا تسلیم کر لیا تھا۔

بقول شاعر!
ظلم کو ظلم، اغوا کو اغوا نہ کہنا بھی جرم ہے
خاموشی اگر طوق بنے، تو پھر زندگی وبال ہے

More posts