انڈونیشیا نے جنسی نوعیت کی اے آئی سے تیار کردہ تصاویر کے خدشات کے باعث ایلون مسک کے گروک چیٹ بوٹ تک رسائی عارضی طور پر بند کر دی ہے، جس کے بعد وہ اس ٹول پر پابندی لگانے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔
روئٹرز کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب یورپ سے ایشیا تک مختلف حکومتیں اور ریگولیٹری ادارے گروک پر موجود جنسی نوعیت کے مواد کی مذمت کر چکے ہیں اور بعض نے اس حوالے سے تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں۔
گروک بنانے والی کمپنی xAI نے جمعرات کو کہا تھا کہ وہ تصویر بنانے اور ایڈیٹنگ کی سہولت کو صرف ادائیگی کرنے والے صارفین تک محدود کر رہی ہے، تاکہ ان حفاظتی خامیوں کو دور کیا جا سکے جن کے باعث کم لباس بچوں سمیت جنسی نوعیت کا مواد سامنے آیا۔
روسی صدر کی یوکرین میں جدید ہتھیاروں کے استعمال کی تصدیق، مغربی ممالک کو سخت پیغام
انڈونیشیا کی وزیر برائے مواصلات و ڈیجیٹل امور میوتیا حافظ نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت غیر رضامندی سے بنائے گئے جنسی ڈیپ فیک مواد کو انسانی حقوق، انسانی وقار اور ڈیجیٹل ماحول میں شہریوں کے تحفظ کی سنگین خلاف ورزی سمجھتی ہے،وزارت نے اس معاملے پر وضاحت کے لیے ایکس کے حکام کو طلب بھی کر لیا ہے ایلون مسک نے ایکس پر کہا کہ گروک کے ذریعے غیر قانونی مواد بنانے والے افراد کو وہی نتائج بھگتنا ہوں گے جو ایسے مواد کو اپ لوڈ کرنے پر ہوتے ہیں۔
تاہم روئٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر xAI کی جانب سے ایک خودکار جواب موصول ہوا جس میں کہا گیا کہ ’’روایتی میڈیا جھوٹ بولتا ہے‘‘، جبکہ ایکس نے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
جنوبی وزیرستان میں خارجی دہشتگرد حملہ، جے یو آئی کے مولانا حافظ سلطان محمد شہید
واضح رہے کہ دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی رکھنے والا انڈونیشیا آن لائن فحش یا غیر اخلاقی مواد کے خلاف سخت قوانین رکھتا ہے۔
