سکردو میں پنجاب سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ٹک ٹاکر کو پولیس نے نجی ہوٹل سے حراست میں لے کر وومن پولیس اسٹیشن سکردو منتقل کر دیا
مذکورہ خاتون حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر سکردو میں اپنی ویڈیوز اور سرگرمیوں کے باعث خاصی توجہ حاصل کر رہی تھیں۔پولیس ذرائع کے مطابق سکردو پولیس کو خاتون ٹک ٹاکر کے خلاف ایک خفیہ رپورٹ موصول ہوئی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ مقامی روایات کے منافی طرزِ عمل اور مبینہ غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ رپورٹ کی بنیاد پر کارروائی عمل میں لائی گئی اور انہیں نجی ہوٹل سے حراست میں لے لیا گیا۔سکردو پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کو قانونی تقاضوں کے مطابق وومن پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا ہے، جہاں ان سے تفتیش کا عمل جاری ہے۔ پولیس کے مطابق ابتدائی معلومات اور شواہد کی روشنی میں مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں، جبکہ حتمی نتائج تفتیش مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گے۔
ذرائع کے مطابق پولیس نے ہوٹل انتظامیہ سے بھی متعلقہ ریکارڈ حاصل کر لیا ہے اور واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقامی اقدار اور قوانین کے تحفظ کو یقینی بنانا ان کی ذمہ داری ہے، تاہم کسی بھی فرد کے خلاف کارروائی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کی جاتی ہے۔پولیس نے واضح کیا ہے کہ تفتیش مکمل ہونے تک کسی حتمی رائے کا اظہار قبل از وقت ہوگا، جبکہ خاتون ٹک ٹاکر کو تمام قانونی حقوق فراہم کیے جا رہے ہیں۔ مزید پیش رفت تفتیش کے بعد متوقع ہے۔
