Baaghi TV

چابہار پورٹ سے علیحدگی پر مودی پر اپنے ہی ملک میں تنقید

india

ایران کی چابہار پورٹ سے علیحدہ ہونے پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنے ہی ملک میں تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اس حوالے سے اپوزیشن جماعت کانگریس پارٹی نے نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ویڈیو ریلیز کی، جس میں لکھا کہ ‘نریندر نے پھر کیا ٹرمپ کے آگے سرینڈر، معاہدہ کرنے پر اسے بڑی کامیابی کہنے والے مودی چابہار کا کنٹرول چھوڑنے پر خاموش ہیں، افسو س مودی ٹرمپ کے آگے جھک گئے اور ملک کا نقصان کردیا۔

کانگریس کے میڈیا اینڈ پبلسٹی ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین پون کھیڑا نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ "چابہار کوئی عام بندرگاہ نہیں ہے۔ یہ بھارت کو افغانستان اور وسطی ایشیا کے لیے ایک اہم، براہ راست سمندری رابطہ فراہم کرتا ہے، جس سے ہمیں پاکستان کو بائی پاس کرنے اور چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا مقابلہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔

امریکا اور اسرائیل کا ہدف ایران میں رجیم چینج کرنا ہے،امریکی پروفیسر

مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر نے کہا کہ "اب یہ سننا کہ بھارت نے امریکی دباؤ کے پہلے اشارے پر چابہار سے غیر رسمی طور پر دستبرداری اختیار کر لی ہے، یہ اس حکومت کی خارجہ پالیسی میں ایک نئی کمی کو ظاہر کرتا ہے”کھیڑا نے اس معاملے میں مرکزی بی جے پی حکومت سے بھی سوال کیاکہ "بھارتی حکومت کب تک واشنگٹن کو ہمارے قومی مفادات پر فیصلے کرنے کی اجازت دے گی؟ تو سوال چابہار بندرگاہ یا روسی تیل کا نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ مودی امریکہ کو بھارت پر دباؤ ڈالنے کی اجازت کیوں دے رہے ہیں؟

اسرائیل نے غزہ بورڈ کی تشکیل مسترد کر دی

اسی طرح کا دعویٰ کرتے ہوئے شیو سینا یو بی ٹی ایم پی پرینکا چترویدی نے بھی ٹویٹر پر لکھا کہ "بھارت ایران میں چابہار بندرگاہ سے تقریباً باہر نکل چکا ہے۔ وہ اپنے اسٹریٹجک مفادات کی قیمت پر ایک ملک کو خوش کرنے کے لیے پیچھے ہٹ رہا ہے۔”اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ چابہار بندرگاہ بھارت کو ایران کی مشرقی سرحدوں کے ذریعے افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی فراہم کرتی ہے، ایم پی نے کہا، "یہ منصوبہ افغانستان اور وسطی ایشیا کے لیے علاقائی سمندری ٹرانزٹ ٹریفک کو فروغ دینے کے لیے ایک اسٹریٹجک منصوبہ سمجھا جاتا ہے۔

امریکی پابندیوں کے بعد بھارت کو بڑا دھچکا، چابہار بندرگاہ سے علیحدگی

More posts