Baaghi TV


پینٹاگون کی 1,500 فوجیوں کو ممکنہ تعیناتی کے لیے تیار رہنے کی ہدایت، امریکی میڈیا


امریکی میڈیا کے مطابق پینٹاگون نے تقریباً 1,500 فعال فوجیوں کو منیسوٹا میں ممکنہ تعیناتی کے لیے تیار رہنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں، جہاں حکومت کی ملک بدری مہم کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج جاری ہے۔
‎واشنگٹن پوسٹ نے نام ظاہر نہ کرنے والے دفاعی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ فوجی یونٹس کو اس خدشے کے پیش نظر الرٹ کیا گیا ہے کہ اگر ریاست میں تشدد میں اضافہ ہوا تو انہیں تعینات کیا جا سکتا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا ان میں سے کسی یونٹ کو واقعی بھیجا جائے گا یا نہیں۔
‎وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا کہ پینٹاگون کا کسی بھی ممکنہ صدارتی فیصلے کے لیے تیار رہنا معمول کی بات ہے۔ رائٹرز کی جانب سے تبصرے کے لیے کی گئی درخواستوں پر پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس نے فوری جواب نہیں دیا۔
‎صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ اگر ریاستی حکام مظاہرین کو امیگریشن حکام کو نشانہ بنانے سے نہ روک سکے تو وہ انسریکشن ایکٹ کے تحت فوج تعینات کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ اگر منیسوٹا کے سیاستدان قانون پر عمل نہ کر سکے تو فوجی اقدام کیا جائے گا۔
‎رپورٹس کے مطابق جن فوجیوں کو الرٹ کیا گیا ہے وہ سرد موسم میں آپریشنز کے ماہر ہیں اور الاسکا میں قائم 11ویں ایئر بورن ڈویژن کے تحت دو انفنٹری بٹالینز سے تعلق رکھتے ہیں۔
‎منیاپولس میں مقامی شہریوں اور وفاقی اہلکاروں کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھی جب 7 جنوری کو ایک آئی سی ای ایجنٹ کی فائرنگ سے رینی گوڈ نامی امریکی شہری ہلاک ہو گئیں۔ اس واقعے کے بعد شہر میں احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا۔
‎صدر ٹرمپ کی ہدایت پر آئی سی ای اور بارڈر پٹرول کے تقریباً 3,000 وفاقی اہلکار منیاپولس اور سینٹ پال میں تعینات کیے جا چکے ہیں۔ مقامی قیادت نے صدر پر اختیارات سے تجاوز اور محدود واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا الزام لگایا ہے۔
‎دوسری جانب منیسوٹا کے گورنر ٹم والز نے ریاستی نیشنل گارڈ کو متحرک کرتے ہوئے مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کے احکامات جاری کیے ہیں۔
‎انسریکشن ایکٹ کے تحت امریکی صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ داخلی بدامنی یا بغاوت کی صورت میں فوج یا نیشنل گارڈ کو وفاقی کنٹرول میں لے کر ملک کے اندر تعینات کر سکے۔

More posts