شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی میں عسکریت پسندوں کی جانب سے ڈرون حملے کا واقعہ پیش آیا ہے، جس کے نتیجے میں تین بچوں اور دو مردوں سمیت پانچ افراد زخمی ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق حملہ میرعلی کے گاؤں موسکی میں کیا گیا، جہاں ڈرون کے ذریعے دھماکا خیز مواد گرایا گیا۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ اچانک ہوا جس سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، واقعے کے فوراً بعد مقامی افراد نے امدادی کارروائیاں شروع کیں اور زخمیوں کو فوری طور پر ابتدائی طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ہسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں میں شامل تینوں بچے اور دونوں مرد زیر علاج ہیں تاہم تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو جسم کے مختلف حصوں پر زخم آئے ہیں، تاہم بروقت طبی امداد کی وجہ سے کسی کی جان کو خطرہ لاحق نہیں۔
واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ حملے میں ملوث عناصر کی تلاش جاری ہے۔ سکیورٹی حکام کے مطابق ابتدائی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ حملہ دہشتگرد عناصر کی جانب سے کیا گیا، جس کا مقصد علاقے میں خوف و ہراس پھیلانا تھا۔مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں۔ حکام کے مطابق امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
