بھارت کو سفارتی طور پر ایک بڑی ناکامی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ دارالحکومت نئی دہلی میں بھارت اور عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوسرا اجلاس 30 اور 31 جنوری 2026 کو منعقد ہو رہا ہے جس میں عرب لیگ کے صرف 6 ممالک شرکت کر رہے ہیں۔ ان میں کوموروس، فلسطین، صومالیہ، سوڈان، لیبیا اور عمان شامل ہیں جبکہ سعودی عرب، قطر، مصر اور بحرین جیسے اہم اور اثر و رسوخ والے عرب ممالک نے نائب وزرائے خارجہ یا کم سطح کے نمائندے بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے اپنا وفد بھیجنے سے معذرت کر لی ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے ابتدائی طور پر 20 سے زائد عرب لیگ کے ممالک کی شرکت کا دعویٰ کیا تھا تاہم حتمی صورتحال میں صرف 6 ممالک کی وزیر خارجہ سطح کی نمائندگی کنفرم ہوئی ہے جو بھارت کی عرب دنیا میں اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششوں کو شدید دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق یہ ناکامی بھارت کی اسرائیل کے ساتھ گہری شراکت داری اور غزہ جنگ میں غیر جانبداری کی بجائے اسرائیل کی حمایت اور علاقائی تنازعات جیسے سوڈان، لیبیا اور فلسطین میں متوازن پالیسی نہ اپنانے کا نتیجہ ہے۔ عرب ممالک نے اعلیٰ سطح پر شرکت سے گریز کرکے بھارت کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ ابھی تک عرب دنیا کے لیے مکمل اعتماد کے قابل نہیں۔ یہ اجلاس انڈیا-مڈل ایسٹ-یورپ اکنامک کوریڈور اور معاشی تعاون پر توجہ مرکوز کرنے کا دعویٰ کرتا ہے، مگر سفارتی سطح کی کمزوری نے اس کی اہمیت کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس میں وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقاتوں کا پروگرام ہے، لیکن محدود شرکت سے بھارت کی علاقائی تنہائی اور سفارتی چیلنجز مزید واضح ہو گئے ہیں۔
