کوئٹہ: بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے دوران بھارتی اور غیر ملکی سہولت کاری کے واضح شواہد سامنے آ گئے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں غیر ملکی ساختہ اسلحہ، جدید جنگی سازوسامان اور دیگر آلات برآمد ہوئے ہیں، جن کی مجموعی مالیت لاکھوں روپے بتائی جا رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہر دہشت گرد کو اوسطاً 20 سے 25 لاکھ روپے مالیت کے اسلحے اور ساز و سامان سے لیس کیا گیا تھا، جو کسی منظم بیرونی نیٹ ورک اور مالی معاونت کی نشاندہی کرتا ہے۔ برآمد ہونے والے اسلحے میں جدید امریکی ساختہ M16 اور M4 رائفلز، راکٹ لانچرز، ایمنگ لیزرز اور نائٹ ویژن گوگلز شامل ہیں، جو عام طور پر جدید عسکری فورسز کے زیرِ استعمال ہوتے ہیں۔سیکیورٹی حکام کے مطابق دہشت گرد بیرونی ساختہ بلٹ پروف جیکٹس اور جدید وائرلیس کمیونیکیشن سیٹس سے بھی لیس تھے، جس سے ان کے درمیان رابطہ اور حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ اس کے علاوہ فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے بے حسی پیدا کرنے والی نشہ آور ادویات اور انجکشن بھی برآمد ہوئے ہیں، جنہیں مبینہ طور پر حملوں سے قبل استعمال کیا جاتا تھا تاکہ دہشت گرد خوف اور درد کے احساس سے بے نیاز ہو کر کارروائیاں انجام دے سکیں۔
سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس بیسڈ اور تعاقبی آپریشنز کے دوران دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ حکام کے مطابق گزشتہ رات ہونے والے تعاقبی آپریشنز میں مزید 22 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا، جبکہ مجموعی طور پر گزشتہ تین روز کے دوران مختلف کارروائیوں میں 197 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشنز کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں، اسلحہ ڈپوؤں اور مواصلاتی نظام کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے ان کی آپریشنل صلاحیت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جائے گا اور دہشت گردی میں ملوث عناصر، ان کے سہولت کاروں اور سرپرستوں کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی۔سیکیورٹی اداروں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ریاست دشمن عناصر اور بیرونی ایجنڈے پر کام کرنے والے گروہوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت آپریشنز جاری رکھے جائیں گے، تاکہ بلوچستان میں پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔
