Baaghi TV

گوجرخان سبزی منڈی نہیں ڈاکوؤں کی کمین گاہ مارکیٹ، کمیٹی غائب

gujar khan

مارکیٹ کمیٹی کی مجرمانہ خاموشی یا آڑھتی مافیا سے حصہ داری؟ سی ایم کے ریلیف مشن کا جنازہ نکل گیا
گوجرخان سبزی منڈی نہیں ڈاکوؤں کی کمین گاہ مارکیٹ کمیٹی غائب، پرائس مجسٹریٹس کا شکار صرف غریب ریڑھی بان، بڑے مگرمچھوں کو کھلی چھوٹ
گوجرخان میں قانونِ جنگل نافذ نجی منڈی میں آڑھتیوں کی غنڈہ گردی، مارکیٹ کمیٹی پرائس مجسٹریٹس بھتہ خوری میں برابر کے شریک؟ شہریوں کی دہائی
گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان میں ریاست نام کی کوئی چیز باقی نہ رہی، رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی گوجرخان میں گراں فروشوں اور آڑھتیوں نے پنجے گاڑ لیے، گلیانہ موڑ سبزی منڈی مڈل مین آڑھتی مافیا کے ٹارچر سیل میں تبدیل ہو چکی ہے جہاں ہر صبح چھوٹے سبزی و پھل فروشوں کی جیبوں پر سرِ عام ڈاکہ ڈالا جاتا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے عوام کو سستی اشیائے خوردونوش فراہم کرنے کے بلند بانگ دعوے گوجرخان کی سبزی منڈی میں دم توڑتے نظر آ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق گلیانہ موڑ نیو سبزی و فروٹ منڈی میں بولی کے دوران مارکیٹ کمیٹی کا عملہ پراسرار طور پر غائب رہتا ہے، جس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے آڑھتیوں اور مڈل مینوں نے غریب عوام کو لوٹنے کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ عوامی ریلیف کے دعوے گوجرخان کی گرد آلود گلیوں میں دم توڑ رہے ہیں۔ مارکیٹ کمیٹی پیرا فورس اور پرائس مجسٹریٹس نے عوامی ریلیف کے ویژن کو آڑھتیوں کے قدموں میں ڈھیر کر دیا ہے۔ متعلقہ حکام کی منافقت کا یہ عالم ہے کہ نام نہاد پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور پیرا فورس کے شیر صرف نہتے ریڑھی بانوں اور دیہاڑی دار دکانداروں پر گرجتے ہیں۔ چند روپوں کے فرق پر غریب کا چالان کرنے والے ان افسران کی زبانیں آڑھتیوں کے سامنے گنگ ہو جاتی ہیں۔ حیرت انگیز طور پر جہاں سے مہنگائی کا طوفان اٹھتا ہے یعنی کہ نیو سبزی منڈی کے وہ آڑھتی جو من مانی بولی لگا کر ریٹ بڑھاتے ہیں انہیں قانون سے بالاتر قرار دے دیا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان مجسٹریٹس کی قانون پسندی صرف کمزور ریڑھی و چھابہ فروشوں کے لیے ہے، جبکہ منڈی کے بڑے مگرمچھوں نے شاید ان کے ضمیروں کی قیمت لگا دی ہے۔ مارکیٹ کمیٹی کا عملہ بولی کے وقت کسی پراسرار غار میں روپوش ہو جاتا ہے تاکہ آڑھتی اپنی مرضی کے ریٹ مقرر کر کے غریب کی کھال ادھیڑ سکیں۔گوجرخان کی سبزی منڈی پنجاب کا وہ کالا دھبہ ہے جو سرکاری اراضی کے بجائے نجی قبضے میں پل رہی ہے۔ یہاں قانون نہیں، کمیشن مافیا کا سکہ چلتا ہے۔

آڑھتیوں، مڈل مینوں نے مل کر ایسا جال بنا رکھا ہے کہ کسان کو صلہ ملتا ہے نہ عوام کو ریلیف۔ مارکیٹ کمیٹی کی خاموشی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے۔ کیا یہ سمجھا جائے کہ متعلقہ حکام ان آڑھتیوں سے ماہانہ نذرانہ وصول کر کے عوامی چیخوں پر کان نہیں دھر رہے؟ عوامی سماجی حلقوں نے دو ٹوک الفاظ میں مطالبہ کیا ہے کہ اس پرائیویٹ ٹارچر سیل نیو سبزی منڈی کو فوری طور پر سرکاری جگہ حیلیاں منتقل کیا جائے اور بولی کا کنٹرول اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان خود اپنے پاس رکھیں۔ اگر اس لوٹ مار کو روکا نہ گیا تو رمضان المبارک میں غریب کے لیے دو وقت کی روٹی بھی خواب بن جائے گی۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ان سفید پوش ڈاکوؤں اور ان کے سہولت کار افسران کے خلاف فوری ایکشن نہ لیا گیا، تو رمضان المبارک میں غریب طبقہ فاقہ کشی پر مجبور ہو جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری مقامی انتظامیہ اور سوئی ہوئی مارکیٹ کمیٹی پر ہوگی۔

More posts