پیکا کے متنازعہ ترمیمی قانون کے خلاف صحافتی تنظیموں کی درخواستوں پر سماعت ہوئی
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے درخواستوں کو یکجا کر کے سماعت کی ،سینئر صحافی حامد میر، پی ایف یو جے اور اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے پیکا ایکٹ کو چیلنج کر رکھا ہے ،اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے وکیل میاں سمیع الدین نے دلائل دیے ،وکیل نے متنازع پیکا ایکٹ میں ترمیم کے بعد شامل کی گئی شقیں پڑھ کر سنائیں ،وکیل نے کہا کہ جو اختیارات عدلیہ کے پاس ہونے چاہئیں وہ ایگزیکٹو کو دے دی گئیں، جوڈیشل ٹریبونل ہونا چاہیے جس کا چیف جسٹس کی مشاورت سے تقرر ہو،سیکشن ٹو سی جعلی اور جھوٹی سوشل میڈیا پوسٹس پر پابندی سے متعلق ہے، جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ فیک انفارمیشن کے متعلق فیصلہ کون کرے گا کہ معلومات غلط اور جھوٹی ہیں؟ یہ بتائیں اور سمجھائیں کہ فیک نیوز کا تعین کیسے کرنا ہے؟ فیک نیوز پر پروسیڈنگ کیسے شروع ہو گی؟ وکیل نے کہا کہ کمپلینٹ فائل کرنے کا ایک نیا طریقہ بتا دیا گیا ہے کہ متاثرہ فریق کے علاوہ تھرڈ پارٹی بھی کمپلینٹ فائل کر سکتی ہے،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ اس سے کوئی پراکسی بھی کمپلینٹ دائر کر سکے گی اور اس قانون کا غلط استعمال ہو گا، یہ دیکھنا ضروری ہے کہ فیک انفارمیشن سے کیا نقصان پہنچ رہا ہے،فیک انفارمیشن ایک غلطی بھی ہو سکتی ہے جس کا کسی کو نقصان نہ ہو،
راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر آصف بشیر چوہدری روسٹرم پر آ گئے ،آصف بشیر چوہدری نے کہا کہ پی ایف یو جے پچھلے سال چھ فروری کو یہ کیس لے کر عدالت آئی تھی، کیس زیر التواء ہے اور اسٹے نہیں ملا اس دوران ہمارے دو درجن سے زائد صحافیوں کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی،سڑک کی جلد توڑ پھوڑ پر تعمیر میں ناقص مٹیریل کے استعمال کی خبر دینے والے پر بھی مقدمہ درج کر لیا گیا،یہ قانون سازی ہے، اس کو حکم امتناع سے معطل نہیں کیا جا سکتا، کیس کو سن کر فیصلہ کریں گے، عدالت نے کیس پر مزید سماعت 6 مارچ تک ملتوی کر دی
