اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں قتل کے مقدمے میں گرفتار مجرم کو میڈیکل سہولیات کی فراہمی سے متعلق اہم درخواست پر سماعت ہوئی، جس دوران عدالت نے قیدی کے علاج کے حوالے سے اہم ریمارکس دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کر دیں۔
سماعت جسٹس عقیل عباسی کی سربراہی میں ہوئی۔ دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کا موکل دل کے عارضے میں مبتلا ہے اور جیل میں مناسب طبی سہولیات دستیاب نہیں۔ وکیل کا کہنا تھا کہ “میرا موکل سنگین قلبی مرض میں مبتلا ہے، جیل میں تو ڈسپرین کے علاوہ کچھ نہیں ملتی، ایسے میں اُس کی جان کو خطرات لاحق ہیں۔”جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ “جیل میں تو آپ کے پاس آنکھ تک کا علاج نہیں، دل کا علاج کیا کریں گے۔” عدالت نے استفسار کیا کہ کیا قیدی کا باقاعدہ میڈیکل چیک اپ کرایا گیا ہے اور کیا متعلقہ اسپتال کی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی ہے۔
وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ قیدی کی حالت تشویشناک ہے اور فوری طور پر ماہر امراضِ قلب سے علاج کی ضرورت ہے، لہٰذا اسے کسی مستند کارڈیالوجی مرکز منتقل کرنے کی اجازت دی جائے۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد قیدی کو پشاور کارڈیالوجی سینٹر منتقل کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے متعلقہ جیل حکام اور صوبائی حکومت کو حکم دیا کہ قیدی کو فوری طور پر مکمل طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور اس کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی گئی۔
